السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب: الاستنجاء بما يقوم مقام الحجارة في الإنقاء دون ما نهي عن الاستنجاء به باب: صفائی حاصل کرنے میں پتھر کے قائم مقام اشیاء سے استنجاء کرنے کا بیان ماسوائے ان چیزوں کے جن سے استنجاء کی ممانعت وارد ہے
حدیث نمبر: 530
وَرَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ دَاودَ، إِلَى قَوْلِهِ: " وَآثَارِ نِيرَانِهِمْ ". ثُمَّ قَالَ: قَالَ دَاودُ: وَلَا أَدْرِي فِي حَدِيثِ عَلْقَمَةَ أَوْ فِي حَدِيثِ عَامِرٍ أَنَّهُمْ سَأَلُوا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تِلْكَ اللَّيْلَةَ الزَّادَ، فَذَكَرَهُ. أَخْبَرَنَاهُ أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ، أَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، نا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، نا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، نا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ دَاودَ، فَذَكَرَهُ. وَرَوَاهُ جَمَاعَةٌ، عَنْ دَاودَ مُدْرَجًا فِي الْحَدِيثِ مِنْ غَيْرِ شَكٍّ.حافظ ثناء اللہ
محمد بن ابو عدی، داؤد سے «وَآثَارِ نِيرَانِهِمْ» تک بیان کرتے ہیں، پھر فرماتے ہیں کہ داؤد نے کہا: مجھے معلوم نہیں کہ یہ علقمہ کی حدیث میں ہے یا عامر کی حدیث میں کہ انہوں نے اس رات رسول اللہ ﷺ سے زادِ راہ کا سوال کیا، پھر انہوں نے اسے ذکر کیا۔