السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب: الاستنجاء بما يقوم مقام الحجارة في الإنقاء دون ما نهي عن الاستنجاء به باب: صفائی حاصل کرنے میں پتھر کے قائم مقام اشیاء سے استنجاء کرنے کا بیان ماسوائے ان چیزوں کے جن سے استنجاء کی ممانعت وارد ہے
حدیث نمبر: 529
وَرَوَاهُ عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُجْرٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ إِلَى قَوْلِهِ: " وَآثَارِ نِيرَانِهِمْ ". قَالَ الشَّعْبِيُّ: وَسَأَلُوهُ الزَّادَ، وَكَانُوا مِنْ جِنِّ الْجَزِيرَةِ إِلَى آخِرِ الْحَدِيثِ مِنْ قَوْلِ الشَّعْبِيِّ مُفَصَّلًا مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ اللهِ، أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، وَجَعْفَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ نَصْرٍ، قَالَا: نا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، فَذَكَرَهُ.حافظ ثناء اللہ
داؤد بن ابو ہند رحمہ اللہ اسی سند سے «وَآثَارِ نِيرَانِهِمْ» تک بیان کرتے ہیں۔
(ب) شعبی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ انہوں نے آپ ﷺ سے زادِ راہ کا سوال کیا اور وہ جزیرہ کے جن تھے۔ حدیث کا باقی حصہ شعبی رحمہ اللہ کا قول ہے جو عبداللہ رضی اللہ عنہ کی حدیث سے الگ کر کے بیان کیا گیا ہے۔