السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب: الاستنجاء بما يقوم مقام الحجارة في الإنقاء دون ما نهي عن الاستنجاء به باب: صفائی حاصل کرنے میں پتھر کے قائم مقام اشیاء سے استنجاء کرنے کا بیان ماسوائے ان چیزوں کے جن سے استنجاء کی ممانعت وارد ہے
حدیث نمبر: 531
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاودَ، ثنا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ الْحِمْصِيُّ، نا ابْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي عَمْرٍو السَّيْبَانِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الدَّيْلَمِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: " قَدِمَ وَفْدُ الْجِنِّ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: يَا مُحَمَّدُ انْهَ أُمَّتَكَ أَنْ يَسْتَنْجُوا بِعَظْمٍ أَوْ رَوْثَةٍ أَوْ حُمَمَةٍ، فَإِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ جَعَلَ لَنَا فِيهَا رِزْقًا. قَالَ: فَنَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ کے پاس جنوں کا وفد آیا، انہوں نے کہا: ”اے محمد ﷺ! اپنی امت کو منع کریں کہ وہ ہڈی اور گوبر یا کوئلہ سے استنجا نہ کریں، اس لیے کہ اس میں اللہ تعالیٰ نے ہمارے لیے رزق رکھ دیا ہے۔“ راوی کہتے ہیں کہ نبی ﷺ نے اس سے منع کر دیا۔