السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: إذا استووا في الفقه والقراءة أمهم أكبرهم سنا باب: جب لوگ فقہ اور قراءت میں برابر ہوں تو ان کی امامت وہ کرائے جو ان میں عمر کے لحاظ سے سب سے بڑا ہو
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ أَيُّوبَ الْفَقِيهُ إِمْلَاءً، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يُوسُفَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، ثنا أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، ثنا مَالِكُ بْنُ الْحُوَيْرِثِ قَالَ: أَتَيْنَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ شَبَبَةٌ مُتَقَارِبُونَ فَأَقَمْنَا عِنْدَهُ عِشْرِينَ لَيْلَةً، وَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَحِيمًا رَقِيقًا فَلَمَّا ظَنَّ أَنَّا قَدِ اشْتَهَيْنَا أَهْلِينَا وَاشْتَقْنَا سَأَلَنَا عَمَّا تَرَكْنَا بَعْدُ فَأَخْبَرَنَاهُ فَقَالَ: " ارْجِعُوا إِلَى أَهَالِيكُمْ فَأَقِيمُوا فِيهِمْ، وَعَلِّمُوهُمْ وَمُرُوهُمْ " وَذَكَرَ أَشْيَاءَ أَحْفَظُهَا وَأَشْيَاءَ لَا أَحْفَظُهَا، " وَصَلُّوا كَمَا رَأَيْتُمُونِي أُصَلِّي، فَإِذَا حَضَرَتِ الصَّلَاةُ فَلْيُؤَذِّنْ لَكُمْ أَحَدُكُمْ، وَلْيَؤُمَّكُمْ أَكْبَرُكُمْ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُثَنَّى، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنِ ابْنِ أَبِي عُمَرَ كِلَاهُمَا عَنِ الثَّقَفِيِّ.سیدنا مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور ہم ایک جیسے نوجوان تھے، ہم آپ ﷺ کے پاس بیس راتیں ٹھہرے رہے، نبی ﷺ نہایت مہربان اور نرم دل تھے، پس جب آپ ﷺ نے محسوس فرمایا کہ ہم اپنے گھروں کو جانے کا شوق رکھتے ہیں تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اپنے گھروں میں لوٹ جاؤ، ان میں نماز قائم کرو، ان کو تعلیم دو اور ان کو حکم دو۔۔۔“ اور آپ ﷺ نے کچھ اشیاء ذکر کیں، بعض کو تو میں نے یاد رکھا اور بعض کو بھول گیا، (اور آپ ﷺ نے فرمایا:) ”«صَلُّوا كَمَا رَأَيْتُمُونِي أُصَلِّي» ”تم نماز پڑھو جیسے مجھے نماز پڑھتے دیکھا ہے“، جب نماز کا وقت ہو جائے تو تم میں سے کوئی اذان کہے اور تمہارا بڑا جماعت کروائے۔“