السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: البيان أنه إنما قيل: يؤمهم أقرؤهم إن من مضى من الأئمة كانوا يسلمون كبارا فيتفقهون قبل أن يقرءوا مع القراءة باب: اس بات کا بیان کہ یہ جو کہا گیا ہے ”ان کی امامت وہ کرائے جو ان میں سب سے زیادہ قرآن پڑھنے والا ہو“ تو اس کی وجہ یہ ہے کہ گزرے ہوئے ائمہ بڑی عمر میں اسلام لاتے تھے تو وہ قراءت سیکھنے کے ساتھ اور اس سے پہلے دین کی سمجھ (فقہ) حاصل کرتے تھے
حدیث نمبر: 5292
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، أنبأ الْحُسَيْنُ بْنُ الْحُرَيْثِ، ثنا وَكِيعٌ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ نَجِيحٍ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ، عَنْ جُنْدُبٍ قَالَ: " كُنَّا غِلْمَانًا حَزَاوِرَةً مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَيُعَلِّمُنَا الْإِيمَانَ قَبْلَ الْقُرْآنِ، ثُمَّ يُعَلِّمُنَا الْقُرْآنَ فَازْدَدْنَا بِهِ إِيمَانًا، وَإِنَّكُمُ الْيَوْمَ تُعَلَّمُونَ الْقُرْآنَ قَبْلَ الْإِيمَانِ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا جندب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نوجوان اور مضبوط لڑکے نبی ﷺ کے ساتھ ہوتے تھے، ہم قرآن سے پہلے ایمان سیکھتے تھے، پھر جب ہم قرآن سیکھتے تو اس سے ہمارا ایمان بڑھ جاتا اور آج تم ہو کہ قرآن کو ایمان سے پہلے سیکھتے ہو۔