کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: جب لوگ فقہ اور قراءت میں برابر ہوں تو ان کی امامت وہ کرائے جو ان میں عمر کے لحاظ سے سب سے بڑا ہو
حدیث نمبر: 5293
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ أَيُّوبَ الْفَقِيهُ إِمْلَاءً، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يُوسُفَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، ثنا أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، ثنا مَالِكُ بْنُ الْحُوَيْرِثِ قَالَ: أَتَيْنَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ شَبَبَةٌ مُتَقَارِبُونَ فَأَقَمْنَا عِنْدَهُ عِشْرِينَ لَيْلَةً، وَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَحِيمًا رَقِيقًا فَلَمَّا ظَنَّ أَنَّا قَدِ اشْتَهَيْنَا أَهْلِينَا وَاشْتَقْنَا سَأَلَنَا عَمَّا تَرَكْنَا بَعْدُ فَأَخْبَرَنَاهُ فَقَالَ: " ارْجِعُوا إِلَى أَهَالِيكُمْ فَأَقِيمُوا فِيهِمْ، وَعَلِّمُوهُمْ وَمُرُوهُمْ " وَذَكَرَ أَشْيَاءَ أَحْفَظُهَا وَأَشْيَاءَ لَا أَحْفَظُهَا، " وَصَلُّوا كَمَا رَأَيْتُمُونِي أُصَلِّي، فَإِذَا حَضَرَتِ الصَّلَاةُ فَلْيُؤَذِّنْ لَكُمْ أَحَدُكُمْ، وَلْيَؤُمَّكُمْ أَكْبَرُكُمْ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُثَنَّى، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنِ ابْنِ أَبِي عُمَرَ كِلَاهُمَا عَنِ الثَّقَفِيِّ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور ہم ایک جیسے نوجوان تھے، ہم آپ ﷺ کے پاس بیس راتیں ٹھہرے رہے، نبی ﷺ نہایت مہربان اور نرم دل تھے، پس جب آپ ﷺ نے محسوس فرمایا کہ ہم اپنے گھروں کو جانے کا شوق رکھتے ہیں تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اپنے گھروں میں لوٹ جاؤ، ان میں نماز قائم کرو، ان کو تعلیم دو اور ان کو حکم دو۔۔۔“ اور آپ ﷺ نے کچھ اشیاء ذکر کیں، بعض کو تو میں نے یاد رکھا اور بعض کو بھول گیا، (اور آپ ﷺ نے فرمایا:) ”«صَلُّوا كَمَا رَأَيْتُمُونِي أُصَلِّي» ”تم نماز پڑھو جیسے مجھے نماز پڑھتے دیکھا ہے“، جب نماز کا وقت ہو جائے تو تم میں سے کوئی اذان کہے اور تمہارا بڑا جماعت کروائے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 5293
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ بخاري 602»
حدیث نمبر: 5294
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا إِسْمَاعِيلُ، وَمَسْلَمَةُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَعْنَى وَاحِدٌ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ مَالِكِ بْنِ ⦗١٧٢⦘ حُوَيْرِثٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ أَوْ لِصَاحِبٍ لَهُ: " إِذَا حَضَرَتِ الصَّلَاةُ، فَأَذِّنَا، ثُمَّ أَقِيمَا، ثُمَّ لِيَؤُمَّكُمَا أَكْبَرُكُمَا ". وَفِي حَدِيثِ مَسْلَمَةَ قَالَ: كُنَّا يَوْمَئِذٍ مُتَقَارِبَيْنِ فِي الْعِلْمِ، وَقَالَ فِي حَدِيثِ إِسْمَاعِيلَ: قَالَ خَالِدٌ: قُلْتُ لِأَبِي قِلَابَةَ: فَأَيْنَ الْقِرَاءَةُ؟ قَالَ: إِنَّهُمَا كَانَا مُتَقَارِبَيْنِ.
حافظ ثناء اللہ
(الف) سیدنا مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے اس کو یا اس کے کسی ساتھی کو فرمایا: ”جب اذان کا وقت ہو جائے تو تم میں سے ایک اذان کہہ دے، پھر تکبیر کہی جائے اور تمہاری امامت تم میں سے بڑا کروائے۔“
(ب) مسلمہ کی حدیث میں ہے کہ ان دنوں ہم دونوں علم میں ایک جیسے نوجوان تھے۔
(ج) اسماعیل کی حدیث میں ہے کہ خالد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے ابوقلابہ رحمہ اللہ سے کہا: قرآن کتنی؟ کہنے لگے: قرأت بھی برابر ہی ہوتی۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 5294
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ تقدم 4998»