السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: إذا استووا في الفقه والقراءة أمهم أكبرهم سنا باب: جب لوگ فقہ اور قراءت میں برابر ہوں تو ان کی امامت وہ کرائے جو ان میں عمر کے لحاظ سے سب سے بڑا ہو
حدیث نمبر: 5294
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا إِسْمَاعِيلُ، وَمَسْلَمَةُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَعْنَى وَاحِدٌ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ مَالِكِ بْنِ ⦗١٧٢⦘ حُوَيْرِثٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ أَوْ لِصَاحِبٍ لَهُ: " إِذَا حَضَرَتِ الصَّلَاةُ، فَأَذِّنَا، ثُمَّ أَقِيمَا، ثُمَّ لِيَؤُمَّكُمَا أَكْبَرُكُمَا ". وَفِي حَدِيثِ مَسْلَمَةَ قَالَ: كُنَّا يَوْمَئِذٍ مُتَقَارِبَيْنِ فِي الْعِلْمِ، وَقَالَ فِي حَدِيثِ إِسْمَاعِيلَ: قَالَ خَالِدٌ: قُلْتُ لِأَبِي قِلَابَةَ: فَأَيْنَ الْقِرَاءَةُ؟ قَالَ: إِنَّهُمَا كَانَا مُتَقَارِبَيْنِ.حافظ ثناء اللہ
(الف) سیدنا مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے اس کو یا اس کے کسی ساتھی کو فرمایا: ”جب اذان کا وقت ہو جائے تو تم میں سے ایک اذان کہہ دے، پھر تکبیر کہی جائے اور تمہاری امامت تم میں سے بڑا کروائے۔“
(ب) مسلمہ کی حدیث میں ہے کہ ان دنوں ہم دونوں علم میں ایک جیسے نوجوان تھے۔
(ج) اسماعیل کی حدیث میں ہے کہ خالد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے ابوقلابہ رحمہ اللہ سے کہا: قرآن کتنی؟ کہنے لگے: قرأت بھی برابر ہی ہوتی۔