السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: البيان أنه إنما قيل: يؤمهم أقرؤهم إن من مضى من الأئمة كانوا يسلمون كبارا فيتفقهون قبل أن يقرءوا مع القراءة باب: اس بات کا بیان کہ یہ جو کہا گیا ہے ”ان کی امامت وہ کرائے جو ان میں سب سے زیادہ قرآن پڑھنے والا ہو“ تو اس کی وجہ یہ ہے کہ گزرے ہوئے ائمہ بڑی عمر میں اسلام لاتے تھے تو وہ قراءت سیکھنے کے ساتھ اور اس سے پہلے دین کی سمجھ (فقہ) حاصل کرتے تھے
حدیث نمبر: 5291
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أَخْبَرَنَا أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ أَبِي السَّفَرِ قَالَ: قَالَ حُذَيْفَةُ: " إِنَّا قَوْمٌ أُوتِينَا الْإِيمَانَ قَبْلَ أَنْ نُؤْتَى الْقُرْآنَ، وَإِنَّكُمْ قَوْمٌ أُوتِيتُمُ الْقُرْآنَ قَبْلَ أَنْ تُؤْتَوَا الْإِيمَانَ ".حافظ ثناء اللہ
ابو سفر کہتے ہیں کہ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے تھے کہ ہم کو ایمان قرآن سے پہلے حاصل ہو جاتا تھا اور تم ایسے لوگ ہو کہ قرآن تمہیں پہلے حاصل ہو جاتا ہے اور ایمان بعد میں حاصل کرتے ہو۔