کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: اس بات کا بیان کہ یہ جو کہا گیا ہے ”ان کی امامت وہ کرائے جو ان میں سب سے زیادہ قرآن پڑھنے والا ہو“ تو اس کی وجہ یہ ہے کہ گزرے ہوئے ائمہ بڑی عمر میں اسلام لاتے تھے تو وہ قراءت سیکھنے کے ساتھ اور اس سے پہلے دین کی سمجھ (فقہ) حاصل کرتے تھے
حدیث نمبر: 5289
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا شَاذَانُ الْأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ، ثنا شَرِيكٌ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ قَالَ: " كُنَّا إِذَا تَعَلَّمْنَا مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشْرَ آيَاتٍ مِنَ الْقُرْآنِ، لَمْ نَتَعَلَّمْ مِنَ الْعَشْرِ الَّتِي نَزَلَتْ بَعْدَهَا حَتَّى نَعْلَمَ مَا فِيهِ ". قِيلَ لِشَرِيكٍ: مِنَ الْعَمَلِ؟ قَالَ: نَعَمْ.
حافظ ثناء اللہ
ابو عبد الرحمن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب ہم نبی ﷺ سے دس آیات سیکھتے تو آئندہ نازل ہونے والی آیات ہم اس وقت تک نہیں سیکھتے تھے، جب تک ہم پہلی والی آیات کے مکمل احکامات کو نہ سیکھ لیتے۔ شریک سے عمل کے بارے میں کہا گیا تو انہوں نے فرمایا: ہاں۔
حدیث نمبر: 5290
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي الْمَعْرُوفِ الْفَقِيهُ الْمِهْرَجَانِيُّ بِهَا، ثنا أَبُو سَهْلٍ بِشْرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بِشْرٍ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْقَطَّانُ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ جَنَّادٍ الْحَلَبِيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ: ⦗١٧١⦘ سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ يَقُولُ: " لَقَدْ عِشْنَا بُرْهَةً مِنْ دَهْرِنَا، وَأَحَدُنَا يُؤْتَى الْإِيمَانَ قَبْلَ الْقُرْآنِ، وَتَنْزِلُ السُّورَةُ عَلَى مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَتَعَلَّمُ حَلَالَهَا وَحَرَامَهَا، وَآمِرَهَا وَزَاجِرَهَا، وَمَا يَنْبَغِي أَنْ يَقِفَ عِنْدَهُ مِنْهَا، كَمَا تَعَلَّمُونَ أَنْتُمُ الْيَوْمَ الْقُرْآنَ، ثُمَّ لَقَدْ رَأَيْتُ الْيَوْمَ رِجَالًا يُؤْتَى أَحَدُهُمُ الْقُرْآنَ قَبْلَ الْإِيمَانِ، فَيَقْرَأُ مَا بَيْنَ فَاتِحَتِهِ إِلَى خَاتِمَتِهِ مَا يَدْرِي مَا آمِرُهُ وَلَا زَاجِرُهُ، وَلَا مَا يَنْبَغِي أَنْ يَقِفَ عِنْدَهُ مِنْهُ، فَيَنْثُرَهُ نَثْرَ الدَّقَلِ.
حافظ ثناء اللہ
قاسم بن عوف کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا کہ ہم نے اپنی زندگی اس طرح گزاری کہ پہلے ایمان سیکھتے پھر قرآن سیکھتے۔ جب نبی ﷺ پر کوئی سورت نازل ہوتی تو آپ ﷺ سے حلال، حرام، اس آیت کے احکام اور توبیخ سیکھ لیتے۔ پھر یہ لائق و مناسب ہی نہیں سمجھا جاتا کہ وہ چیز اس کے پاس رکی رہے۔ جیسے آج تم قرآن سیکھتے ہو۔ میں نے دیکھا ہے آج کے مردوں کو کہ ایمان سے پہلے قرآن حاصل کر لیتے ہیں اور فاتحہ سے لے کر آخر تک پڑھ جاتے ہیں لیکن کوئی اس کے احکامات، زجر و توبیخ اور جو کچھ اس میں ہے اس کے متعلق کچھ نہیں جانتا۔ وہ اس کو یوں پڑھتا ہے جیسے کوئی ردی کلام ہو۔
حدیث نمبر: 5291
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أَخْبَرَنَا أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ أَبِي السَّفَرِ قَالَ: قَالَ حُذَيْفَةُ: " إِنَّا قَوْمٌ أُوتِينَا الْإِيمَانَ قَبْلَ أَنْ نُؤْتَى الْقُرْآنَ، وَإِنَّكُمْ قَوْمٌ أُوتِيتُمُ الْقُرْآنَ قَبْلَ أَنْ تُؤْتَوَا الْإِيمَانَ ".
حافظ ثناء اللہ
ابو سفر کہتے ہیں کہ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے تھے کہ ہم کو ایمان قرآن سے پہلے حاصل ہو جاتا تھا اور تم ایسے لوگ ہو کہ قرآن تمہیں پہلے حاصل ہو جاتا ہے اور ایمان بعد میں حاصل کرتے ہو۔
حدیث نمبر: 5292
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، أنبأ الْحُسَيْنُ بْنُ الْحُرَيْثِ، ثنا وَكِيعٌ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ نَجِيحٍ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ، عَنْ جُنْدُبٍ قَالَ: " كُنَّا غِلْمَانًا حَزَاوِرَةً مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَيُعَلِّمُنَا الْإِيمَانَ قَبْلَ الْقُرْآنِ، ثُمَّ يُعَلِّمُنَا الْقُرْآنَ فَازْدَدْنَا بِهِ إِيمَانًا، وَإِنَّكُمُ الْيَوْمَ تُعَلَّمُونَ الْقُرْآنَ قَبْلَ الْإِيمَانِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جندب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نوجوان اور مضبوط لڑکے نبی ﷺ کے ساتھ ہوتے تھے، ہم قرآن سے پہلے ایمان سیکھتے تھے، پھر جب ہم قرآن سیکھتے تو اس سے ہمارا ایمان بڑھ جاتا اور آج تم ہو کہ قرآن کو ایمان سے پہلے سیکھتے ہو۔