السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: البيان أنه إنما قيل: يؤمهم أقرؤهم إن من مضى من الأئمة كانوا يسلمون كبارا فيتفقهون قبل أن يقرءوا مع القراءة باب: اس بات کا بیان کہ یہ جو کہا گیا ہے ”ان کی امامت وہ کرائے جو ان میں سب سے زیادہ قرآن پڑھنے والا ہو“ تو اس کی وجہ یہ ہے کہ گزرے ہوئے ائمہ بڑی عمر میں اسلام لاتے تھے تو وہ قراءت سیکھنے کے ساتھ اور اس سے پہلے دین کی سمجھ (فقہ) حاصل کرتے تھے
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي الْمَعْرُوفِ الْفَقِيهُ الْمِهْرَجَانِيُّ بِهَا، ثنا أَبُو سَهْلٍ بِشْرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بِشْرٍ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْقَطَّانُ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ جَنَّادٍ الْحَلَبِيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ: ⦗١٧١⦘ سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ يَقُولُ: " لَقَدْ عِشْنَا بُرْهَةً مِنْ دَهْرِنَا، وَأَحَدُنَا يُؤْتَى الْإِيمَانَ قَبْلَ الْقُرْآنِ، وَتَنْزِلُ السُّورَةُ عَلَى مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَتَعَلَّمُ حَلَالَهَا وَحَرَامَهَا، وَآمِرَهَا وَزَاجِرَهَا، وَمَا يَنْبَغِي أَنْ يَقِفَ عِنْدَهُ مِنْهَا، كَمَا تَعَلَّمُونَ أَنْتُمُ الْيَوْمَ الْقُرْآنَ، ثُمَّ لَقَدْ رَأَيْتُ الْيَوْمَ رِجَالًا يُؤْتَى أَحَدُهُمُ الْقُرْآنَ قَبْلَ الْإِيمَانِ، فَيَقْرَأُ مَا بَيْنَ فَاتِحَتِهِ إِلَى خَاتِمَتِهِ مَا يَدْرِي مَا آمِرُهُ وَلَا زَاجِرُهُ، وَلَا مَا يَنْبَغِي أَنْ يَقِفَ عِنْدَهُ مِنْهُ، فَيَنْثُرَهُ نَثْرَ الدَّقَلِ.قاسم بن عوف کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا کہ ہم نے اپنی زندگی اس طرح گزاری کہ پہلے ایمان سیکھتے پھر قرآن سیکھتے۔ جب نبی ﷺ پر کوئی سورت نازل ہوتی تو آپ ﷺ سے حلال، حرام، اس آیت کے احکام اور توبیخ سیکھ لیتے۔ پھر یہ لائق و مناسب ہی نہیں سمجھا جاتا کہ وہ چیز اس کے پاس رکی رہے۔ جیسے آج تم قرآن سیکھتے ہو۔ میں نے دیکھا ہے آج کے مردوں کو کہ ایمان سے پہلے قرآن حاصل کر لیتے ہیں اور فاتحہ سے لے کر آخر تک پڑھ جاتے ہیں لیکن کوئی اس کے احکامات، زجر و توبیخ اور جو کچھ اس میں ہے اس کے متعلق کچھ نہیں جانتا۔ وہ اس کو یوں پڑھتا ہے جیسے کوئی ردی کلام ہو۔