السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: الصلاة بإمامين أحدهما بعد الآخر باب: یکے بعد دیگرے دو اماموں کی اقتداء میں نماز پڑھنے کا بیان
أَخْبَرَنَا بِحَدِيثِ أَبِي إِسْحَاقَ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ الْبَاقِلَّانِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، ثنا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ الْأَوْدِيِّ قَالَ: شَهِدْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ حِينَ طُعِنَ، قَالَ: أَتَاهُ أَبُو لُؤْلُؤَةَ وَهُوَ لَعَلَّهُ يُسَوِّي الصُّفُوفَ فَطَعَنَهُ وَطَعَنَ اثْنَيْ عَشَرَ رَجُلًا، قَالَ: فَأَنَا رَأَيْتُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بَاسِطًا يَدَهُ وَهُوَ يَقُولُ: " أَدْرِكُوا الْكَلْبَ فَقَدْ قَتَلَنِي"، فَأَتَاهُ رَجُلٌ مِنْ وَرَائِهِ فَأَخَذَهُ. قَالَ: فَحُمِلَ عُمَرُ إِلَى مَنْزِلِهِ فَأَتَاهُ الطَّبِيبُ فَقَالَ: أِيُّ الشَّرَابِ أَحَبُّ إِلَيْكَ؟ فَقَالَ: النَّبِيذُ. قَالَ: فَدُعِيَ بِالنَّبِيذِ فَشَرِبَ مِنْهُ فَخَرَجَ مِنْ إِحْدَى طَعَنَاتِهِ، فَقَالَ: إِنَّمَا هَذَا الصَّدِيدُ صَدِيدُ الدَّمِ، قَالَ: فَدُعِيَ بِلَبَنٍ فَشَرِبَ فَقَالَ: أَوْصِ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ بِمَا كُنْتَ مُوصِيًا بِهِ، فَوَاللهِ مَا أَرَاكَ تُمْسِي، وَأَتَاهُ كَعْبٌ فَقَالَ: أَلَمْ أَقُلْ لَكَ لَا تَمُوتُ إِلَّا شَهِيدًا، وَأَنْتَ تَقُولُ: مِنْ أَيْنَ وَأَنَا فِي جَزِيرَةِ الْعَرَبِ؟ قَالَ: فَقَالَ رَجُلٌ: الصَّلَاةَ عِبَادَ اللهِ، قَدْ كَادَتِ الشَّمْسُ تَطْلُعُ، قَالَ: فَتَدَافَعُوا حَتَّى قَدَّمُوا عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ فَقَرَأَ بِأَقْصَرِ سُورَتَيْنِ فِي الْقُرْآنِ، الْعَصْرِ، وَإِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ". كَذَلِكَ قَالَ أَبُو إِسْحَاقَ، وَكَذَا رَوَاهُ مَيْمُونُ بْنُ مِهْرَانَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ وَرُوِّينَاهُ عَنْ أَبِي رَافِعٍ شَبِيهًا بِرِوَايَةِ حُصَيْنٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، وَحُصَيْنٌ أَحْسَنُ سِيَاقَةً لِلْحَدِيثِ مِنْ غَيْرِهِ، وَقَدْ أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ فَهُوَ يُشْبِهُهُ أَنْ يَكُونَ أَحْفَظَ وَقَدْ رُوِّينَا الِاسْتِخْلَافَ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي وَقْتٍ آخَرَ.عمرو بن میمون رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جب عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ زخمی کیے گئے، میں وہاں موجود تھا۔ ابولؤلؤ آیا، آپ رضی اللہ عنہ صفیں درست کر رہے تھے۔ اس نے آپ کو زخمی کیا اور بارہ مرد اور تھے جو زخمی ہوئے۔ میں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو دیکھا، وہ اپنا ہاتھ پھیلائے ہوئے تھے اور کہہ رہے تھے: ”کتے کو پکڑو، اس نے مجھے قتل کر دیا۔“ تو ایک شخص پیچھے سے آیا اور قاتل کو پکڑا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو اٹھا کر ان کے گھر لایا گیا تو طبیب آیا اور کہنے لگا: ”آپ کو کیا پینا زیادہ پسند ہے؟“ آپ نے فرمایا: ”نبیذ۔“ نبیذ لایا گیا تو آپ نے اس سے پیا، وہ ایک زخم سے نکل گیا، کہنے لگے: ”یہ خون کی پیپ ہے۔“ پھر دودھ منگوا کر پیا تو طبیب کہنے لگا: ”اے امیر المؤمنین! وصیت کر دیں، مجھے نہیں معلوم کہ آپ شام تک زندہ رہیں گے یا نہیں؟“ کعب رضی اللہ عنہ آئے تو کہنے لگے: ”میں نے کہا نہیں تھا کہ آپ کو شہادت کی موت آئے گی اور آپ کہتے تھے کہ میں تو جزیرہ عرب میں ہوں۔“ راوی کہتے ہیں: ایک شخص نے کہا: ”اے اللہ کے بندو! نماز!“ قریب تھا کہ سورج طلوع ہو جاتا تو وہ پیچھے ہٹے اور عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کو آگے کیا، انہوں نے دو چھوٹی سورتیں پڑھیں: ﴿وَالْعَصْرِ﴾ [سورة العصر: 1] اور ﴿إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ﴾ [سورة الكوثر: 1]۔