کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: یکے بعد دیگرے دو اماموں کی اقتداء میں نماز پڑھنے کا بیان
حدیث نمبر: 5254
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ، وَهُوَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: وَقَعَ بَيْنَ الْأَوْسِ وَالْخَزْرَجِ كَلَامٌ فَتَنَاوَلَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا، وَأُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأُخْبِرَ، فَأَتَاهُمْ فَاحْتُبِسَ، فَأَذَّنَ بِلَالٌ وَاحْتُبِسَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا احْتُبِسَ أَقَامَ الصَّلَاةَ فَتَقَدَّمَ أَبُو بَكْرٍ يَؤُمُّ النَّاسَ، وَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مُحْتَبَسِهِ ذَاكَ قَالَ: فَتَخَلَّلَ النَّاسَ حَتَّى انْتَهَى إِلَى الصَّفِّ الَّذِي يَلِي أَبَا بَكْرٍ، فَصَفَّقَ النَّاسُ وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ لَا يَلْتَفِتُ فِي الصَّلَاةِ، فَلَمَّا سَمِعَ التَّصْفِيقَ الْتَفَتَ فَإِذَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَشَارَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَنِ اثْبُتْ مَكَانَكَ "، فَرَفَعَ أَبُو بَكْرٍ رَأْسَهُ إِلَى السَّمَاءِ وَنَكَصَ الْقَهْقَرَى وَتَقَدَّمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى بِهِمْ، فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ قَالَ: " مَا مَنَعَكَ أَنْ تَثْبُتَ؟ " قَالَ: مَا كَانَ اللهُ لِيَرَى ابْنَ أَبِي قُحَافَةَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَالُكُمْ حِينَ نَابَكُمْ شَيْءٌ فِي صَلَاتِكُمْ صَفَّقْتُمْ؟ إِنَّمَا هَذَا لِلنِّسَاءِ، مَنْ نَابَهُ شَيْءٌ فِي صَلَاتِهِ فَلْيَقُلْ: سُبْحَانَ اللهِ ". أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ، وَمُسْلِمٌ مِنْ أَوْجُهٍ عَنْ أَبِي حَازِمٍ. وَالْحَدِيثُ فِي تَكْبِيرِهِ ثُمَّ خُرُوجِهِ لِلْغُسْلِ وَرُجُوعِهِ، وَإِتْمَامِ مَنْ كَبَّرَ قَبْلَ رُجُوعِهِ قَدْ مَضَتْ فِي مَسْأَلَةِ الْجُنُبِ.
حافظ ثناء اللہ
ابوحازم، سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ اوس اور خزرج میں جھگڑا ہو گیا۔ انہوں نے ایک دوسرے پر زبان درازی کی۔ نبی ﷺ تشریف لائے تو آپ ﷺ کو خبر دی گئی۔ آپ ﷺ ان کے پاس آئے اور ٹھہر گئے۔ بلال رضی اللہ عنہ نے اذان کہی اور نبی ﷺ رکے رہے۔ جب آپ ﷺ ٹھہرے رہے تو نماز کی اقامت ہوئی اور ابوبکر رضی اللہ عنہ امامت کے لیے آگے بڑھے۔ نبی ﷺ وہاں سے واپس پلٹے۔ راوی کہتے ہیں کہ لوگوں نے راستہ صاف کیا تو آپ ﷺ ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ والی صف تک چلے گئے۔ لوگوں نے تالیاں بجائیں، ابوبکر رضی اللہ عنہ اپنی نماز میں کسی طرف توجہ نہیں کرتے تھے۔ جب انہوں نے تالی کی آواز سنی تو متوجہ ہوئے، اچانک نبی ﷺ وہاں موجود تھے۔ آپ ﷺ نے اشارہ کیا کہ اپنی جگہ ٹھہرے رہو۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنا سر آسمان کی طرف اٹھایا اور الٹے پاؤں واپس ہوئے۔ نبی ﷺ آگے بڑھے اور ان کو نماز پڑھائی۔ جب نبی ﷺ نے نماز پوری کی تو آپ ﷺ نے پوچھا: ”کس چیز نے تجھے روکا کہ تو اپنی جگہ پر رہے؟“ انہوں نے عرض کیا کہ ابن ابی قحافہ کے لیے یہ مناسب نہیں تھا کہ وہ نبی ﷺ کے آگے رہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا: ”جب نماز میں کوئی چیز پیش آ جائے تو تم تالی بجاتے ہو، یہ عورتوں کا کام ہے۔ جب نماز میں کوئی مسئلہ درپیش ہو تو «سُبْحَانَ اللّٰهِ» ”اللہ پاک ہے“ کہا کرو۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 5254
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ بخاري 2544»
حدیث نمبر: 5255
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدُوسٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ قَالَ: رَأَيْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَذَكَرَ بَعْضَ الْحَدِيثِ، قَالَ: " وَكَانَ إِذَا مَرَّ بَيْنَ الصَّفَّيْنِ قَامَ فَإِنْ رَأَى خَلَلًا قَالَ: " اسْتَوُوا " حَتَّى إِذَا لَمْ يَرَ فِيهِمْ خَلَلًا تَقَدَّمَ فَكَبَّرَ قَالَ: وَرُبَّمَا قَرَأَ بِسُورَةِ يُوسُفَ أَوِ النَّحْلِ، أَوْ نَحْوَ ذَلِكَ فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى حَتَّى يَجْتَمِعَ النَّاسُ، قَالَ: فَمَا هُوَ إِلَّا أَنْ كَبَّرَ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: " قَتَلَنِي الْكَلْبُ، أَوْ أَكَلَنِي الْكَلْبُ " حِينَ طَعَنَهُ، فَطَارَ الْعِلْجُ بِالسِّكِّينِ ذَاتِ ⦗١٦١⦘ طَرَفَيْنِ لَا يَمُرُّ عَلَى أَحَدٍ يَمِينًا وَلَا شِمَالًا إِلَّا طَعَنَهُ، حَتَّى طَعَنَ ثَلَاثَةَ عَشَرَ رَجُلًا فَمَاتَ مِنْهُمْ تِسْعَةٌ، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ طَرَحَ عَلَيْهِ بُرْنُسًا، فَلَمَّا ظَنَّ الْعِلْجُ أَنَّهُ مَأْخُوذٌ نَحَرَ نَفْسَهُ، قَالَ: وَتَنَاوَلَ عُمَرُ يَدَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ فَقَدَّمَهُ قَالَ: فَمَنْ يَلِي عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَدْ رَأَى الَّذِي رَأَى، وَأَمَّا نَوَاحِي الْمَسْجِدِ فَإِنَّهُمْ لَا يَدْرُونَ غَيْرَ أَنَّهُمْ فَقَدُوا صَوْتَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَهُمْ يَقُولُونَ: سُبْحَانَ اللهِ، سُبْحَانَ اللهِ قَالَ: فَصَلَّى بِهِمْ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ صَلَاةً خَفِيفَةً ". فَذَكَرَ الْحَدِيثُ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُوسَى بْنِ إِسْمَاعِيلَ، وَفِي هَذَا دَلَالَةٌ عَلَى جَوَازِ الِاسْتِخْلَافِ عَلَى مَا جَوَّزَهُ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى فِي الْجَدِيدِ وَكَانَ فِي الْقَدِيمِ لَا يُجَوِّزُهُ. وَيَقُولُ لِمَنْ يَحْتَجُّ بِهَذَا عَلَيْهِ: رُوِّيتُمْ ذَلِكَ عَنْ حُصَيْنٍ، وَأَبُو إِسْحَاقَ يُخْبِرُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ أَنَّهُ لَمْ يُكَبِّرْ، قَالَ: وَكَذَلِكَ حَدِيثُ أَصْحَابِنَا وَإِنَّمَا تَقَدَّمَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ مُصْبِحًا بَعْدَ أَنْ طُعِنَ عُمَرُ بِسَاعَةٍ وَقَرَأَ بِسُورَتَيْنِ قَصِيرَتَيْنِ مُبَادِرًا لِلشَّمْسِ. هَذَا قَوْلُ الشَّافِعِيِّ فِي الْقَدِيمِ.
حافظ ثناء اللہ
عمرو بن میمون رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو دیکھا جب وہ دو صفوں کے درمیان سے گزرتے، اگر فاصلہ دیکھتے تو کہتے: ”برابر ہو جاؤ“ اور اگر درمیان میں خلا نہ دیکھتے تو آگے بڑھتے اور تکبیر کہتے، آپ رضی اللہ عنہ بعض اوقات ﴿سورة يوسف﴾ یا ﴿سورة النحل﴾ یا اس جیسی پہلی رکعت میں پڑھتے یہاں تک کہ لوگ جمع ہو جاتے۔ راوی فرماتے ہیں: صرف «اللَّهُ أَكْبَرُ» ”اللہ اکبر“ کا کہنا تھا کہ میں نے آپ رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا: ”کتے نے مجھے مار ڈالا“ یا فرمایا: ”کتے نے مجھے کھا لیا۔“ جس وقت اس نے نیزہ مارا اس مضبوط آدمی نے دونوں اطراف کو کاٹ ڈالا۔ وہ دائیں بائیں جس طرف بھی گزرتا، نیزہ مارتا رہا، اس نے تیرہ آدمی زخمی کیے، نو ان میں سے شہید ہو گئے۔ جب مسلمانوں میں سے ایک شخص نے دیکھا تو اپنا کوٹ اس پر ڈال دیا، جب اس نے محسوس کیا کہ وہ پکڑ لیا گیا تو اس نے اپنے آپ کو ذبح کر لیا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑ کر ان کو آگے کر دیا۔ فرماتے ہیں: کون والی بنے گا عمر کا جس نے دیکھا سو دیکھا، لیکن وہ نہ جانتے تھے سوائے اس کے کہ انہوں نے عمر رضی اللہ عنہ کی آواز کو گم پایا، وہ «سُبْحَانَ اللَّهِ، سُبْحَانَ اللَّهِ» ”سبحان اللہ، سبحان اللہ“ کہہ رہے تھے۔ عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے ان کو دو ہلکی رکعتیں پڑھائیں۔
نوٹ: امام شافعی رحمہ اللہ اس طرح امام کے نائب بننے کو جائز کہتے ہیں، جدید مذہب میں اور قدیم میں جائز نہیں تھا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 5255
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ بخاري 3497»
حدیث نمبر: 5256
أَخْبَرَنَا بِحَدِيثِ أَبِي إِسْحَاقَ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ الْبَاقِلَّانِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، ثنا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ الْأَوْدِيِّ قَالَ: شَهِدْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ حِينَ طُعِنَ، قَالَ: أَتَاهُ أَبُو لُؤْلُؤَةَ وَهُوَ لَعَلَّهُ يُسَوِّي الصُّفُوفَ فَطَعَنَهُ وَطَعَنَ اثْنَيْ عَشَرَ رَجُلًا، قَالَ: فَأَنَا رَأَيْتُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بَاسِطًا يَدَهُ وَهُوَ يَقُولُ: " أَدْرِكُوا الْكَلْبَ فَقَدْ قَتَلَنِي"، فَأَتَاهُ رَجُلٌ مِنْ وَرَائِهِ فَأَخَذَهُ. قَالَ: فَحُمِلَ عُمَرُ إِلَى مَنْزِلِهِ فَأَتَاهُ الطَّبِيبُ فَقَالَ: أِيُّ الشَّرَابِ أَحَبُّ إِلَيْكَ؟ فَقَالَ: النَّبِيذُ. قَالَ: فَدُعِيَ بِالنَّبِيذِ فَشَرِبَ مِنْهُ فَخَرَجَ مِنْ إِحْدَى طَعَنَاتِهِ، فَقَالَ: إِنَّمَا هَذَا الصَّدِيدُ صَدِيدُ الدَّمِ، قَالَ: فَدُعِيَ بِلَبَنٍ فَشَرِبَ فَقَالَ: أَوْصِ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ بِمَا كُنْتَ مُوصِيًا بِهِ، فَوَاللهِ مَا أَرَاكَ تُمْسِي، وَأَتَاهُ كَعْبٌ فَقَالَ: أَلَمْ أَقُلْ لَكَ لَا تَمُوتُ إِلَّا شَهِيدًا، وَأَنْتَ تَقُولُ: مِنْ أَيْنَ وَأَنَا فِي جَزِيرَةِ الْعَرَبِ؟ قَالَ: فَقَالَ رَجُلٌ: الصَّلَاةَ عِبَادَ اللهِ، قَدْ كَادَتِ الشَّمْسُ تَطْلُعُ، قَالَ: فَتَدَافَعُوا حَتَّى قَدَّمُوا عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ فَقَرَأَ بِأَقْصَرِ سُورَتَيْنِ فِي الْقُرْآنِ، الْعَصْرِ، وَإِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ". كَذَلِكَ قَالَ أَبُو إِسْحَاقَ، وَكَذَا رَوَاهُ مَيْمُونُ بْنُ مِهْرَانَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ وَرُوِّينَاهُ عَنْ أَبِي رَافِعٍ شَبِيهًا بِرِوَايَةِ حُصَيْنٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، وَحُصَيْنٌ أَحْسَنُ سِيَاقَةً لِلْحَدِيثِ مِنْ غَيْرِهِ، وَقَدْ أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ فَهُوَ يُشْبِهُهُ أَنْ يَكُونَ أَحْفَظَ وَقَدْ رُوِّينَا الِاسْتِخْلَافَ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي وَقْتٍ آخَرَ.
حافظ ثناء اللہ
عمرو بن میمون رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جب عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ زخمی کیے گئے، میں وہاں موجود تھا۔ ابولؤلؤ آیا، آپ رضی اللہ عنہ صفیں درست کر رہے تھے۔ اس نے آپ کو زخمی کیا اور بارہ مرد اور تھے جو زخمی ہوئے۔ میں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو دیکھا، وہ اپنا ہاتھ پھیلائے ہوئے تھے اور کہہ رہے تھے: ”کتے کو پکڑو، اس نے مجھے قتل کر دیا۔“ تو ایک شخص پیچھے سے آیا اور قاتل کو پکڑا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو اٹھا کر ان کے گھر لایا گیا تو طبیب آیا اور کہنے لگا: ”آپ کو کیا پینا زیادہ پسند ہے؟“ آپ نے فرمایا: ”نبیذ۔“ نبیذ لایا گیا تو آپ نے اس سے پیا، وہ ایک زخم سے نکل گیا، کہنے لگے: ”یہ خون کی پیپ ہے۔“ پھر دودھ منگوا کر پیا تو طبیب کہنے لگا: ”اے امیر المؤمنین! وصیت کر دیں، مجھے نہیں معلوم کہ آپ شام تک زندہ رہیں گے یا نہیں؟“ کعب رضی اللہ عنہ آئے تو کہنے لگے: ”میں نے کہا نہیں تھا کہ آپ کو شہادت کی موت آئے گی اور آپ کہتے تھے کہ میں تو جزیرہ عرب میں ہوں۔“ راوی کہتے ہیں: ایک شخص نے کہا: ”اے اللہ کے بندو! نماز!“ قریب تھا کہ سورج طلوع ہو جاتا تو وہ پیچھے ہٹے اور عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کو آگے کیا، انہوں نے دو چھوٹی سورتیں پڑھیں: ﴿وَالْعَصْرِ﴾ [سورة العصر: 1] اور ﴿إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ﴾ [سورة الكوثر: 1]۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 5256
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ انظر ما قبله»
حدیث نمبر: 5257
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ ⦗١٦٢⦘ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ قَالَ: وَحَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ: قُرِئَ عَلَى ابْنِ وَهْبٍ، أَخْبَرَكَ عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ، عَنْ زُرْعَةَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ خَالِدِ بْنِ اللَّجْلَاجِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ صَلَّى يَوْمًا لِلنَّاسِ فَلَمَّا جَلَسَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ أَطَالَ الْجُلُوسَ، فَلَمَّا اسْتَقْبَلَ قَائِمًا نَكَصَ خَلْفَهُ فَأَخَذَ بِيَدِ رَجُلٍ مِنَ الْقَوْمِ فَقَدَّمَهُ مَكَانَهُ، فَلَمَّا خَرَجَ إِلَى الْعَصْرِ صَلَّى لِلنَّاسِ فَلَمَّا انْصَرَفَ، أَخَذَ بِجَنَاحِ الْمِنْبَرِ فَحَمِدَ اللهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: " أَمَّا بَعْدُ، أَيُّهَا النَّاسُ، فَإِنِّي تَوَضَّأْتُ لِلصَّلَاةِ فَمَرَرْتُ بِامْرَأَةٍ مِنْ أَهْلِي فَكَانَ مِنِّي وَمِنْهَا مَا شَاءَ اللهُ أَنْ يَكُونَ، فَلَمَّا كُنْتُ فِي صَلَاتِي وَجَدْتُ بَلَلًا، فَخَيَّرْتُ نَفْسِي بَيْنَ أَمْرَيْنِ: إِمَّا أَنْ أَسْتَحْيِيَ مِنْكُمْ وَأَجْتَرِئَ عَلَى اللهِ، وَإِمَّا أَنْ أَسْتَحْيِيَ مِنَ اللهِ وَأَجْتَرِئَ عَلَيْكُمْ، فَكَانَ أَنْ أَسْتَحْيِيَ مِنَ اللهِ وَأَجْتَرِئَ عَلَيْكُمْ أَحَبَّ إِلَيَّ، فَخَرَجْتُ فَتَوَضَّأْتُ وَجَدَّدْتُ صَلَاتِي، فَمَنْ صَنَعَ كَمَا صَنَعْتُهُ فَلْيَصْنَعْ كَمَا صَنَعْتُ ". وَرُوِيَ فِي جَوَازِ الِاسْتِخْلَافِ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.
حافظ ثناء اللہ
خالد بن لجلاج رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ایک دن لوگوں کو نماز پڑھائی۔ جب وہ پہلی دو رکعتوں میں بیٹھے تو زیادہ دیر بیٹھے رہے۔ جب اٹھے تو پیچھے کی جانب مڑے اور ایک آدمی کو پکڑ کر آگے کر دیا۔ پھر عصر کے وقت آئے اور لوگوں کو نماز پڑھائی۔ جب نماز سے فارغ ہوئے تو منبر کا ایک کنارہ پکڑا اور اللہ کی حمد اور ثنا بیان کی، پھر فرمایا: اے لوگو! میں نے نماز کے لیے وضو کیا، پھر میں اپنی بیوی کے پاس سے گزرا تو میں نے بوس وکنار کیا، جب میں نے نماز شروع کی تو میں نے تری کو پایا، میں نے اپنے آپ کو دو کاموں کے درمیان اختیار دیا کہ یا تو میں تم سے حیا کروں اور اللہ کے معاملے میں جری ہو جاؤں اور یا پھر میں اللہ سے حیا کروں اور تم پر جرأت کروں۔ اب اللہ سے حیا کرنا اور تم پر جرأت کرنا یہ مجھے زیادہ محبوب ہے۔ میں گیا، وضو کیا اور نئے سرے سے نماز پڑھی، جو ایسے کرے جیسے میں نے کیا تو پھر اس کو ایسا کرنا چاہیے جو میں نے کیا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 5257
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ ابن عساكر في تاريخه19/4»
حدیث نمبر: 5258
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ أَبِي الْمَعْرُوفِ الْفَقِيهُ الْمِهْرَجَانِيُّ بِهَا، ثنا بِشْرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بِشْرٍ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْقَطَّانُ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ، ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ سُمَيْعٍ، ثنا أَبُو رَزِينٍ قَالَ: " صَلَّيْتُ خَلْفَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَرُعِفَ، فَالْتَفَتَ فَأَخَذَ بِيَدِ رَجُلٍ فَقَدَّمَهُ فَصَلَّى، وَخَرَجَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ".
حافظ ثناء اللہ
ابورزین فرماتے ہیں کہ میں نے علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز پڑھی، ان کی نکسیر پھوٹ گئی تو وہ پیچھے ہٹے اور ایک شخص کا ہاتھ پکڑ کر اس کو آگے کر دیا، اس نے نماز پڑھائی اور علی رضی اللہ عنہ چلے گئے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 5258
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»