حدیث نمبر: 5257
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ ⦗١٦٢⦘ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ قَالَ: وَحَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ: قُرِئَ عَلَى ابْنِ وَهْبٍ، أَخْبَرَكَ عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ، عَنْ زُرْعَةَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ خَالِدِ بْنِ اللَّجْلَاجِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ صَلَّى يَوْمًا لِلنَّاسِ فَلَمَّا جَلَسَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ أَطَالَ الْجُلُوسَ، فَلَمَّا اسْتَقْبَلَ قَائِمًا نَكَصَ خَلْفَهُ فَأَخَذَ بِيَدِ رَجُلٍ مِنَ الْقَوْمِ فَقَدَّمَهُ مَكَانَهُ، فَلَمَّا خَرَجَ إِلَى الْعَصْرِ صَلَّى لِلنَّاسِ فَلَمَّا انْصَرَفَ، أَخَذَ بِجَنَاحِ الْمِنْبَرِ فَحَمِدَ اللهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: " أَمَّا بَعْدُ، أَيُّهَا النَّاسُ، فَإِنِّي تَوَضَّأْتُ لِلصَّلَاةِ فَمَرَرْتُ بِامْرَأَةٍ مِنْ أَهْلِي فَكَانَ مِنِّي وَمِنْهَا مَا شَاءَ اللهُ أَنْ يَكُونَ، فَلَمَّا كُنْتُ فِي صَلَاتِي وَجَدْتُ بَلَلًا، فَخَيَّرْتُ نَفْسِي بَيْنَ أَمْرَيْنِ: إِمَّا أَنْ أَسْتَحْيِيَ مِنْكُمْ وَأَجْتَرِئَ عَلَى اللهِ، وَإِمَّا أَنْ أَسْتَحْيِيَ مِنَ اللهِ وَأَجْتَرِئَ عَلَيْكُمْ، فَكَانَ أَنْ أَسْتَحْيِيَ مِنَ اللهِ وَأَجْتَرِئَ عَلَيْكُمْ أَحَبَّ إِلَيَّ، فَخَرَجْتُ فَتَوَضَّأْتُ وَجَدَّدْتُ صَلَاتِي، فَمَنْ صَنَعَ كَمَا صَنَعْتُهُ فَلْيَصْنَعْ كَمَا صَنَعْتُ ". وَرُوِيَ فِي جَوَازِ الِاسْتِخْلَافِ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.
حافظ ثناء اللہ

خالد بن لجلاج رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ایک دن لوگوں کو نماز پڑھائی۔ جب وہ پہلی دو رکعتوں میں بیٹھے تو زیادہ دیر بیٹھے رہے۔ جب اٹھے تو پیچھے کی جانب مڑے اور ایک آدمی کو پکڑ کر آگے کر دیا۔ پھر عصر کے وقت آئے اور لوگوں کو نماز پڑھائی۔ جب نماز سے فارغ ہوئے تو منبر کا ایک کنارہ پکڑا اور اللہ کی حمد اور ثنا بیان کی، پھر فرمایا: اے لوگو! میں نے نماز کے لیے وضو کیا، پھر میں اپنی بیوی کے پاس سے گزرا تو میں نے بوس وکنار کیا، جب میں نے نماز شروع کی تو میں نے تری کو پایا، میں نے اپنے آپ کو دو کاموں کے درمیان اختیار دیا کہ یا تو میں تم سے حیا کروں اور اللہ کے معاملے میں جری ہو جاؤں اور یا پھر میں اللہ سے حیا کروں اور تم پر جرأت کروں۔ اب اللہ سے حیا کرنا اور تم پر جرأت کرنا یہ مجھے زیادہ محبوب ہے۔ میں گیا، وضو کیا اور نئے سرے سے نماز پڑھی، جو ایسے کرے جیسے میں نے کیا تو پھر اس کو ایسا کرنا چاہیے جو میں نے کیا۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 5257
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ ابن عساكر في تاريخه19/4»