حدیث نمبر: 5255
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدُوسٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ قَالَ: رَأَيْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَذَكَرَ بَعْضَ الْحَدِيثِ، قَالَ: " وَكَانَ إِذَا مَرَّ بَيْنَ الصَّفَّيْنِ قَامَ فَإِنْ رَأَى خَلَلًا قَالَ: " اسْتَوُوا " حَتَّى إِذَا لَمْ يَرَ فِيهِمْ خَلَلًا تَقَدَّمَ فَكَبَّرَ قَالَ: وَرُبَّمَا قَرَأَ بِسُورَةِ يُوسُفَ أَوِ النَّحْلِ، أَوْ نَحْوَ ذَلِكَ فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى حَتَّى يَجْتَمِعَ النَّاسُ، قَالَ: فَمَا هُوَ إِلَّا أَنْ كَبَّرَ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: " قَتَلَنِي الْكَلْبُ، أَوْ أَكَلَنِي الْكَلْبُ " حِينَ طَعَنَهُ، فَطَارَ الْعِلْجُ بِالسِّكِّينِ ذَاتِ ⦗١٦١⦘ طَرَفَيْنِ لَا يَمُرُّ عَلَى أَحَدٍ يَمِينًا وَلَا شِمَالًا إِلَّا طَعَنَهُ، حَتَّى طَعَنَ ثَلَاثَةَ عَشَرَ رَجُلًا فَمَاتَ مِنْهُمْ تِسْعَةٌ، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ طَرَحَ عَلَيْهِ بُرْنُسًا، فَلَمَّا ظَنَّ الْعِلْجُ أَنَّهُ مَأْخُوذٌ نَحَرَ نَفْسَهُ، قَالَ: وَتَنَاوَلَ عُمَرُ يَدَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ فَقَدَّمَهُ قَالَ: فَمَنْ يَلِي عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَدْ رَأَى الَّذِي رَأَى، وَأَمَّا نَوَاحِي الْمَسْجِدِ فَإِنَّهُمْ لَا يَدْرُونَ غَيْرَ أَنَّهُمْ فَقَدُوا صَوْتَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَهُمْ يَقُولُونَ: سُبْحَانَ اللهِ، سُبْحَانَ اللهِ قَالَ: فَصَلَّى بِهِمْ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ صَلَاةً خَفِيفَةً ". فَذَكَرَ الْحَدِيثُ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُوسَى بْنِ إِسْمَاعِيلَ، وَفِي هَذَا دَلَالَةٌ عَلَى جَوَازِ الِاسْتِخْلَافِ عَلَى مَا جَوَّزَهُ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى فِي الْجَدِيدِ وَكَانَ فِي الْقَدِيمِ لَا يُجَوِّزُهُ. وَيَقُولُ لِمَنْ يَحْتَجُّ بِهَذَا عَلَيْهِ: رُوِّيتُمْ ذَلِكَ عَنْ حُصَيْنٍ، وَأَبُو إِسْحَاقَ يُخْبِرُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ أَنَّهُ لَمْ يُكَبِّرْ، قَالَ: وَكَذَلِكَ حَدِيثُ أَصْحَابِنَا وَإِنَّمَا تَقَدَّمَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ مُصْبِحًا بَعْدَ أَنْ طُعِنَ عُمَرُ بِسَاعَةٍ وَقَرَأَ بِسُورَتَيْنِ قَصِيرَتَيْنِ مُبَادِرًا لِلشَّمْسِ. هَذَا قَوْلُ الشَّافِعِيِّ فِي الْقَدِيمِ.
حافظ ثناء اللہ

عمرو بن میمون رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو دیکھا جب وہ دو صفوں کے درمیان سے گزرتے، اگر فاصلہ دیکھتے تو کہتے: ”برابر ہو جاؤ“ اور اگر درمیان میں خلا نہ دیکھتے تو آگے بڑھتے اور تکبیر کہتے، آپ رضی اللہ عنہ بعض اوقات ﴿سورة يوسف﴾ یا ﴿سورة النحل﴾ یا اس جیسی پہلی رکعت میں پڑھتے یہاں تک کہ لوگ جمع ہو جاتے۔ راوی فرماتے ہیں: صرف «اللَّهُ أَكْبَرُ» ”اللہ اکبر“ کا کہنا تھا کہ میں نے آپ رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا: ”کتے نے مجھے مار ڈالا“ یا فرمایا: ”کتے نے مجھے کھا لیا۔“ جس وقت اس نے نیزہ مارا اس مضبوط آدمی نے دونوں اطراف کو کاٹ ڈالا۔ وہ دائیں بائیں جس طرف بھی گزرتا، نیزہ مارتا رہا، اس نے تیرہ آدمی زخمی کیے، نو ان میں سے شہید ہو گئے۔ جب مسلمانوں میں سے ایک شخص نے دیکھا تو اپنا کوٹ اس پر ڈال دیا، جب اس نے محسوس کیا کہ وہ پکڑ لیا گیا تو اس نے اپنے آپ کو ذبح کر لیا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑ کر ان کو آگے کر دیا۔ فرماتے ہیں: کون والی بنے گا عمر کا جس نے دیکھا سو دیکھا، لیکن وہ نہ جانتے تھے سوائے اس کے کہ انہوں نے عمر رضی اللہ عنہ کی آواز کو گم پایا، وہ «سُبْحَانَ اللَّهِ، سُبْحَانَ اللَّهِ» ”سبحان اللہ، سبحان اللہ“ کہہ رہے تھے۔ عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے ان کو دو ہلکی رکعتیں پڑھائیں۔
نوٹ: امام شافعی رحمہ اللہ اس طرح امام کے نائب بننے کو جائز کہتے ہیں، جدید مذہب میں اور قدیم میں جائز نہیں تھا۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 5255
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ بخاري 3497»