حدیث نمبر: 5254
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ، وَهُوَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: وَقَعَ بَيْنَ الْأَوْسِ وَالْخَزْرَجِ كَلَامٌ فَتَنَاوَلَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا، وَأُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأُخْبِرَ، فَأَتَاهُمْ فَاحْتُبِسَ، فَأَذَّنَ بِلَالٌ وَاحْتُبِسَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا احْتُبِسَ أَقَامَ الصَّلَاةَ فَتَقَدَّمَ أَبُو بَكْرٍ يَؤُمُّ النَّاسَ، وَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مُحْتَبَسِهِ ذَاكَ قَالَ: فَتَخَلَّلَ النَّاسَ حَتَّى انْتَهَى إِلَى الصَّفِّ الَّذِي يَلِي أَبَا بَكْرٍ، فَصَفَّقَ النَّاسُ وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ لَا يَلْتَفِتُ فِي الصَّلَاةِ، فَلَمَّا سَمِعَ التَّصْفِيقَ الْتَفَتَ فَإِذَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَشَارَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَنِ اثْبُتْ مَكَانَكَ "، فَرَفَعَ أَبُو بَكْرٍ رَأْسَهُ إِلَى السَّمَاءِ وَنَكَصَ الْقَهْقَرَى وَتَقَدَّمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى بِهِمْ، فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ قَالَ: " مَا مَنَعَكَ أَنْ تَثْبُتَ؟ " قَالَ: مَا كَانَ اللهُ لِيَرَى ابْنَ أَبِي قُحَافَةَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَالُكُمْ حِينَ نَابَكُمْ شَيْءٌ فِي صَلَاتِكُمْ صَفَّقْتُمْ؟ إِنَّمَا هَذَا لِلنِّسَاءِ، مَنْ نَابَهُ شَيْءٌ فِي صَلَاتِهِ فَلْيَقُلْ: سُبْحَانَ اللهِ ". أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ، وَمُسْلِمٌ مِنْ أَوْجُهٍ عَنْ أَبِي حَازِمٍ. وَالْحَدِيثُ فِي تَكْبِيرِهِ ثُمَّ خُرُوجِهِ لِلْغُسْلِ وَرُجُوعِهِ، وَإِتْمَامِ مَنْ كَبَّرَ قَبْلَ رُجُوعِهِ قَدْ مَضَتْ فِي مَسْأَلَةِ الْجُنُبِ.
حافظ ثناء اللہ

ابوحازم، سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ اوس اور خزرج میں جھگڑا ہو گیا۔ انہوں نے ایک دوسرے پر زبان درازی کی۔ نبی ﷺ تشریف لائے تو آپ ﷺ کو خبر دی گئی۔ آپ ﷺ ان کے پاس آئے اور ٹھہر گئے۔ بلال رضی اللہ عنہ نے اذان کہی اور نبی ﷺ رکے رہے۔ جب آپ ﷺ ٹھہرے رہے تو نماز کی اقامت ہوئی اور ابوبکر رضی اللہ عنہ امامت کے لیے آگے بڑھے۔ نبی ﷺ وہاں سے واپس پلٹے۔ راوی کہتے ہیں کہ لوگوں نے راستہ صاف کیا تو آپ ﷺ ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ والی صف تک چلے گئے۔ لوگوں نے تالیاں بجائیں، ابوبکر رضی اللہ عنہ اپنی نماز میں کسی طرف توجہ نہیں کرتے تھے۔ جب انہوں نے تالی کی آواز سنی تو متوجہ ہوئے، اچانک نبی ﷺ وہاں موجود تھے۔ آپ ﷺ نے اشارہ کیا کہ اپنی جگہ ٹھہرے رہو۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنا سر آسمان کی طرف اٹھایا اور الٹے پاؤں واپس ہوئے۔ نبی ﷺ آگے بڑھے اور ان کو نماز پڑھائی۔ جب نبی ﷺ نے نماز پوری کی تو آپ ﷺ نے پوچھا: ”کس چیز نے تجھے روکا کہ تو اپنی جگہ پر رہے؟“ انہوں نے عرض کیا کہ ابن ابی قحافہ کے لیے یہ مناسب نہیں تھا کہ وہ نبی ﷺ کے آگے رہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا: ”جب نماز میں کوئی چیز پیش آ جائے تو تم تالی بجاتے ہو، یہ عورتوں کا کام ہے۔ جب نماز میں کوئی مسئلہ درپیش ہو تو «سُبْحَانَ اللّٰهِ» ”اللہ پاک ہے“ کہا کرو۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 5254
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ بخاري 2544»