السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: صلاة الرجل بصلاة الرجل لم يقدمه باب: کسی آدمی کا ایسے شخص کی اقتدا میں نماز پڑھنا جسے اس نے امام نہ بنایا ہو۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، وَمُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمَعْنَى، عَنْ وُهَيْبٍ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهٌ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّمَا جُعِلَ الْإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ، فَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا وَلَا تُكَبِّرُوا حَتَّى يُكَبِّرَ، وَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا وَلَا تَرْكَعُوا حَتَّى يَرْكَعَ، وَإِذَا قَالَ سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، فَقُولُوا: اللهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ قَالَ مُسْلِمٌ وَلَكَ الْحَمْدُ وَإِذَا سَجَدَ فَاسْجُدُوا وَلَا تَسْجُدُوا حَتَّى يَسْجُدَ، وَإِذَا صَلَّى قَائِمًا فَصَلُّوا قِيَامًا، وَإِذَا صَلَّى قَاعِدًا فَصَلُّوا قُعُودًا أَجْمَعِينَ ". قَالَ أَبُو دَاوُدَ: " اللهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ "، أَفْهَمَنِي بَعْضُ أَصْحَابِنَا عَنْ سُلَيْمَانَ.سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”امام بنایا ہی اس لیے جاتا ہے کہ اس کی اقتدا کی جائے۔ جب وہ تکبیر کہے تو تم بھی تکبیر کہو اور تم «اللّٰهُ أَكْبَرُ» نہ کہو جب تک وہ نہ کہہ لے اور جب وہ رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو اور تم رکوع نہ کرو یہاں تک کہ وہ رکوع کرے اور جب وہ کہے: «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» تو تم کہو: «اللّٰهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ» مسلم کے الفاظ یہ ہیں: «وَلَكَ الْحَمْدُ» اور جب وہ سجدہ کرے تو تم بھی سجدہ کرو اور تم سجدہ نہ کرو یہاں تک کہ وہ سجدہ کرلے اور جب وہ کھڑے ہو کر نماز پڑھے تو تم بھی کھڑے ہو کر نماز پڑھو اور وہ جب بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم سب بھی بیٹھ کر نماز پڑھو۔“