السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: : " اجعلوا أئمتكم خياركم " وما جاء في إمامة ولد الزناء باب: ”اپنے میں سے بہترین لوگوں کو اپنا امام بناؤ“ اور ولد الزنا کی امامت کے بارے میں وارد شدہ روایات کا بیان۔
حدیث نمبر: 5136
وَبِإِسْنَادِهِ قَالَ: وَحَدَّثَنَا زَيْدٌ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ قَالَ: حَدَّثَنِي السَّفَرُ بْنُ نُسَيْرٍ الْأَسَدِيُّ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا قَالَ: " وَلَدُ الزِّنَاءِ شَرُّ الثَّلَاثَةِ، إِنْ أَبَوََيْهِ أَسْلَمَا وَلَمْ يُسَلِمْ هُوَ ". فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " هُوَ شَرُّ الثَّلَاثَةِ ". وَهَذَا مُرْسَلٌ، وَرُوِّينَا عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ: مَا عَلَيْهِ مِنْ وِزْرِ أَبَوَيْهِ شَيْءٌ، قَالَ اللهُ تَعَالَى {لَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى} [الأنعام: ١٦٤] تَعْنِي وَلَدَ الزِّنَاءِ. وَعَنِ الشَّعْبِيِّ، وَالنَّخَعِيِّ، وَالزُّهْرِيِّ فِي وَلَدِ الزِّنَاءِ أَنَّهُ يَؤُمُّ.حافظ ثناء اللہ
(الف) سفر بن نسیر اسدی فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”حرامی بچہ تین میں تیسرا شر ہے۔“ اس کے والدین تو مطیع ہوچکے، لیکن وہ مطیع نہ ہوا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ تینوں میں سے تیسرا شر ہے۔“
(ب) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ اس کے والدین کا اس پر کوئی بوجھ نہیں۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى﴾ [سورة الأنعام: 164] ”کوئی جان کسی کا بوجھ نہیں اٹھائے گی۔“