السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: : " اجعلوا أئمتكم خياركم " وما جاء في إمامة ولد الزناء باب: ”اپنے میں سے بہترین لوگوں کو اپنا امام بناؤ“ اور ولد الزنا کی امامت کے بارے میں وارد شدہ روایات کا بیان۔
حدیث نمبر: 5135
أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْحُرْفِيُّ بِبَغْدَادَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الزُّبَيْرِ الْكُوفِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ابْنُ أَخِي عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ قَالَ: " سَأَلْتُ عَطَاءَ بْنَ أَبِي رَبَاحٍ عَنْ وَلَدِ الزِّنَاءِ إِنْ مَرِضَ، أَعُودُهُ؟ قَالَ: نَعَمْ، قُلْتُ: فَإِنْ مَاتَ أُصَلِّي عَلَيْهِ؟ قَالَ: نَعَمْ، قُلْتُ: فَإِنْ شَهِدَ تَجُوزُ شَهَادَتُهُ؟ قَالَ: نَعَمْ، قُلْتُ: يَؤُمُّ؟ قَالَ: نَعَمْ ".حافظ ثناء اللہ
عبدالعزیز بن رفیع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ سے سوال کیا کہ اگر حرامی بچہ بیمار ہو جائے تو میں اس کی عیادت کروں؟ فرمایا: ہاں۔ میں نے کہا: اگر فوت ہو جائے تو جنازہ پڑھوں؟ فرمایا: ہاں، پھر میں نے کہا: اگر وہ گواہی دے تو اس کی گواہی جائز ہے؟ فرمایا: ہاں، میں نے کہا: وہ امامت کروائے؟ فرمایا: ہاں۔