السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: : " اجعلوا أئمتكم خياركم " وما جاء في إمامة ولد الزناء باب: ”اپنے میں سے بہترین لوگوں کو اپنا امام بناؤ“ اور ولد الزنا کی امامت کے بارے میں وارد شدہ روایات کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سَلَمَةَ، قَالَ وَهُوَ حَيٌّ: أَفَلَا تَلْقَاهُ فَتَسْأَلَهُ؟ قَالَ أَيُّوبُ: فَلَقِيتُ عَمْرًا فَقَالَ: " كُنَّا بِحَضْرَةِ مَاءٍ مَمَرٍّ لِلنَّاسِ وَكَانَ يَمُرُّ بِنَا الرُّكْبَانُ فَنَسْأَلُهُمْ مَا هَذَا الْأَمْرُ، مَا لِلنَّاسِ؟ فَيَقُولُونَ: نَبِيُّنَا يَزْعُمُ أَنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ أَرْسَلَهُ وَأَنَّ اللهَ أَوْحَى إِلَيْهِ كَذَا وَكَذَا، فَجَعَلْتُ أَحْفَظُ ذَلِكَ الْكَلَامَ فَكَأَنَّمَا يُغْرَى فِي صَدْرِي بِغِرَاءٍ وَكَانَتِ الْعَرَبُ تَلَوَّمُ بِإِسْلَامِهَا الْفَتْحَ وَيَقُولُونَ: أَنْظِرُوهُ ⦗١٣٠⦘ فِي قَوْمِهِ، فَإِنْ ظَهَرَ عَلَيْهِمْ فَهُوَ نَبِيٌّ وَهُوَ صَادِقٌ، فَلَمَّا جَاءَتْ وَقْعَةُ الْفَتْحِ بَادَرَ كُلُّ قَوْمٍ بِإِسْلَامِهِمْ، وَانْطَلَقَ أَبِي بِإِسْلَامِ حِوَائِنَا ذَلِكَ، فَلَمَّا قَدِمَ مِنْ عِنْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَلَقَّيْنَاهُ، فَلَمَّا رَآنَا قَالَ: جِئْتُكُمْ وَاللهِ مِنْ عِنْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَقًّا، وَإِنَّهُ يَأْمُرُكُمْ بِكَذَا وَيَنْهَاكُمْ عَنْ كَذَا، وَقَالَ: صَلُّوا صَلَاةَ كَذَا فِي حِينِ كَذَا وَصَلَاةَ كَذَا فِي حِينِ كَذَا، فَإِذَا حَضَرَتِ الصَّلَاةُ فَلْيُؤَذِّنْ لَكُمْ أَحَدُكُمْ، وَلْيَؤُمَّكُمْ أَكْثَرُكُمْ قُرْآنًا "، فَنَظَرُوا فِي أَهْلِ حِوَائِنَا ذَلِكَ فَمَا وَجَدُوا أَحَدًا أَكْثَرَ مِنِّي قُرْآنًا لِمَا كُنْتُ أَلْقَى مِنَ الرُّكْبَانِ، فَقَدَّمُونِي بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَأَنَا ابْنُ سَبْعِ سِنِينَ، أَوْ سِتِّ سِنِينَ، وَكَانَتْ عَلَيَّ بُرْدَةٌ فِيهَا صِغَرٌ، فَإِذَا سَجَدْتُ تَقَلَّصَتْ عَنِّي، فَقَالَتِ امْرَأَةٌ مِنَ الْحِيِّ: أَلَا تُغَطُّونَ عَنَّا اسْتَ قَارِئِكُمْ؟ فَكَسَوْنِي قَمِيصًا مِنْ مُعَقَّدِ الْبَحْرَيْنِ، فَمَا فَرِحْتُ بِشَيْءٍ فَرَحِي بِذَلِكَ الْقَمِيصِ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ حَرْبٍ.ایوب، ابو قلابہ رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ عمرو بن سلمہ رضی اللہ عنہ زندہ تھے، کیا آپ نے ان سے ملاقات نہیں کی؟ آپ ان سے سوال کریں۔ ایوب کہنے لگے: میں عمرو رضی اللہ عنہ سے ملا تو انہوں نے فرمایا: ہم ایک پانی کے چشمے پر تھے، لوگوں کا وہاں سے گزر ہوتا تھا۔ ہمارے پاس سے قافلے گزرتے تھے تو ہم لوگوں کے معاملات کے بارے میں سوال کرتے تھے۔ وہ کہتے: وہ نبی ہے اس کا گمان ہے کہ اللہ نے اس کو مبعوث کیا ہے اور اللہ نے اس پر فلاں فلاں وحی کی ہے۔ میں اس کلام کو یاد کر لیتا تھا۔ گویا کہ میرے دل میں اس کا شوق پیدا ہو گیا اور عرب نے اسلام لانے سے فتح تک توقف کیا۔ وہ کہتے تھے: اگر یہ اپنی قوم پر غالب آ گیا تو یہ سچا نبی ہے۔ جب فتح کا واقعہ ہو گیا تو ہر قوم نے اسلام لانے میں جلدی کی اور میرے والد اپنے قبیلہ کے ساتھ اسلام قبول کرنے گئے۔ جب وہ نبی ﷺ کے پاس آئے اور ان کے پاس ٹھہرے تو ہم نے ملاقات کی۔ جب انہوں نے ہم کو دیکھا تو کہنے لگے: میں تمہارے پاس سچے رسول اللہ ﷺ کی طرف سے آیا ہوں، وہ تمہیں فلاں چیز کا حکم دیتے ہیں اور فلاں سے روکتے ہیں اور فرمایا: ”نماز اس طرح پڑھو اور اس وقت پڑھو اور فلاں نماز اس طرح اور اس وقت پڑھو۔ جب نماز کا وقت ہو تو تمہارے لیے کوئی ایک اذان دے اور تمہاری امامت وہ کروائے جو قرآن زیادہ پڑھا ہوا ہو۔“ انہوں نے ہمارے محلے والوں میں دیکھا تو انہوں نے مجھ سے زیادہ قرآن کو یاد کرنے والا کسی کو نہ پایا، کیونکہ میں قافلوں سے ملتا رہتا تھا۔ انہوں نے مجھے آگے کر دیا اور میں سات سال کا تھا یا چھ سال کا۔ میرے اوپر ایک چادر تھی جو چھوٹی تھی۔ جب میں سجدہ کرتا تو وہ مجھ سے سکڑ جاتی۔ قبیلہ کی ایک عورت نے کہا: کیا تم اپنے قاری کی پشت ہم سے ڈھانپتے نہیں ہو؟ تو انہوں نے بحرین کی بنی ہوئی چادر مجھے پہنا دی۔
میں اتنا کبھی خوش نہیں ہوا جتنا اس قمیص کی وجہ سے خوش ہوا۔