السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: : " اجعلوا أئمتكم خياركم " وما جاء في إمامة ولد الزناء باب: ”اپنے میں سے بہترین لوگوں کو اپنا امام بناؤ“ اور ولد الزنا کی امامت کے بارے میں وارد شدہ روایات کا بیان۔
حدیث نمبر: 5134
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ " أَنَّ رَجُلًا كَانَ يَؤُمُّ نَاسًا بِالْعَقِيقِ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ فَنَهَاهُ ". قَالَ مَالِكٌ: وَإِنَّمَا نَهَاهُ لِأَنَّهُ كَانَ لَا يُعْرَفُ أَبُوهُ.حافظ ثناء اللہ
یحییٰ بن سعید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عقیق نامی جگہ پر ایک شخص لوگوں کی امامت کرواتا تھا، عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے اس کو امامت سے روک دیا۔ امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس کے باپ کا علم نہیں تھا۔