السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: : " اجعلوا أئمتكم خياركم " وما جاء في إمامة ولد الزناء باب: ”اپنے میں سے بہترین لوگوں کو اپنا امام بناؤ“ اور ولد الزنا کی امامت کے بارے میں وارد شدہ روایات کا بیان۔
حدیث نمبر: 5133
أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، وَأنبأ أَبُو أَحْمَدَ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَسَدٍ الْهَرَوِيُّ، ثنا حُسَيْنُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا سَلَّامُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ وَاسِعٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اجْعَلُوا أَئِمَّتَكُمْ خِيَارَكُمْ، فَإِنَّهُمْ وَفْدُكُمْ فِيمَا بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ رَبِّكُمْ ". إِسْنَادُ هَذَا الْحَدِيثِ ضَعِيفٌ.حافظ ثناء اللہ
سعید بن جبیر ابن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم امام اپنے بہترین لوگوں کو بناؤ؛ کیونکہ یہ تمہارے اور اللہ کے درمیان قاصد ہوتے ہیں۔“