السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
جماع أبواب اختلاف نية الإمام والمأموم وغير ذلك -- باب: الفريضة خلف من يصلي النافلة باب: امام اور مقتدی کی نیت کے اختلاف اور اس کے علاوہ دیگر مسائل کے ابواب کا مجموعہ۔ -- باب: نفل پڑھنے والے کے پیچھے فرض نماز پڑھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 5112
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْعَلَوِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ الْجَلِيلِ الْقَطَّانُ، ثنا أَبُو الْأَزْهَرِ السَّلِيطِيُّ، ثنا مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، ثنا الْوَضِينُ بْنُ عَطَاءٍ، عَنْ مَحْفُوظِ بْنِ عَلْقَمَةَ، عَنِ ابْنِ عَائِذٍ قَالَ: دَخَلَ ثَلَاثَةُ نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسْجِدَ وَالنَّاسُ فِي صَلَاةِ الْعَصْرِ قَدْ فَرَغُوا مِنْ صَلَاةِ الظُّهْرِ فَصَلُّوا مَعَ النَّاسِ، فَلَمَّا فَرَغُوا قَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ: كَيْفَ صَنَعْتُمْ؟ قَالَ أَحَدُهُمْ: جَعَلْتُهَا الظُّهْرَ ⦗١٢٤⦘ ثُمَّ صَلَّيْتُ الْعَصْرَ، وَقَالَ الْآخَرُ: جَعَلْتُهَا الْعَصْرَ ثُمَّ صَلَّيْتُ الظُّهْرَ، وَقَالَ الْآخَرُ: جَعَلْتُهَا لِلْمَسْجِدِ ثُمَّ صَلَّيْتُ الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ. فَلَمْ يَعِبْ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ ".حافظ ثناء اللہ
ابن عائذ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ تین آدمیوں کی جماعت جو نبی ﷺ کے صحابہ رضی اللہ عنہم میں سے تھے مسجد میں آئی اور لوگ عصر کی نماز پڑھ رہے تھے، ظہر کی نماز سے فارغ ہو چکے تھے۔ انہوں نے لوگوں کے ساتھ نماز پڑھی۔ جب فارغ ہوئے تو ایک دوسرے سے کہنے لگے: ”تم نے کیسے کیا؟“ ان میں سے ایک نے کہا: ”میں نے اس کو ظہر بنا دیا، پھر میں نے عصر کی نماز پڑھ لی۔“ اور دوسرا کہتا ہے: ”میں نے اس کو عصر بنایا اور اس کے بعد ظہر پڑھ لی۔“ تیسرے نے کہا: ”میں نے اس کو تحیۃ المسجد بنا دیا، پھر ظہر و عصر کی نماز پڑھ لی۔“ تو کسی نے کسی پر کوئی عیب نہیں لگایا۔