کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: امام اور مقتدی کی نیت کے اختلاف اور اس کے علاوہ دیگر مسائل کے ابواب کا مجموعہ۔ -- باب: نفل پڑھنے والے کے پیچھے فرض نماز پڑھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 5101
بَابُ الْفَرِيضَةِ خَلْفَ مَنْ يُصَلِّي النَّافِلَةَ.
حافظ ثناء اللہ
یہ باب نفل نماز پڑھنے والے کی اقتدا میں فرض نماز ادا کرنے کے بیان میں ہے۔
حدیث نمبر: 5101
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقَبَّانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ مُعَاذٌ يُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ يَأْتِي فَيَؤُمُّ قَوْمَهُ فَصَلَّى مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً الْعِشَاءَ ثُمَّ أَتَى قَوْمَهُ فَافْتَتَحَ بِسُورَةِ الْبَقَرَةِ، فَانْحَرَفَ رَجُلٌ وَسَلَّمَ ثُمَّ صَلَّى وَحْدَهُ وَانْصَرَفَ. وَذَكَرَ بَاقِيَ الْحَدِيثِ بِمَعْنَاهُ، لَمْ يَقُلْ أَحَدٌ فِي هَذَا الْحَدِيثِ: وَسَلَّمَ إِلَّا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبَّادٍ الْمَكِّيِّ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نبی ﷺ کے ساتھ نماز پڑھتے تھے، پھر اپنی قوم کی امامت کرواتے تھے۔ ایک رات انہوں نے عشا کی نماز نبی ﷺ کے ساتھ پڑھی، پھر اپنی قوم کے پاس آئے اور نماز میں سورہ بقرہ شروع کر دی، ایک شخص سلام پھیر کر الگ ہو گیا اور نماز پڑھ لی۔
حدیث نمبر: 5102
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا عَارِمٌ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، ثنا أَيُّوبُ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، أَنَّ مُعَاذًا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَانَ يُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ يَأْتِي قَوْمَهُ فَيُصَلِّي بِهِمْ. لَفْظُ حَدِيثِ عَارِمٍ، وَفِي حَدِيثِ سُلَيْمَانَ: ثُمَّ يَأْتِي أَصْحَابَهُ يَؤُمُّهُمْ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَارِمٍ وَسُلَيْمَانَ بْنِ حَرْبٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِي الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيِّ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نبی ﷺ کے ساتھ نماز پڑھتے، پھر وہ اپنی قوم کے پاس آتے اور ان کی امامت کرواتے۔
حدیث نمبر: 5103
وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، أنبأ مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ " أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ كَانَ يُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ يَرْجِعُ فَيَؤُمُّ قَوْمَهُ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُسْلِمِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ کے ساتھ نماز پڑھتے، پھر واپس جا کر اپنی قوم کی امامت کرواتے۔
حدیث نمبر: 5104
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحُسَيْنِ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ هُشَيْمٌ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ، ثنا هُشَيْمٌ، أنبأ مَنْصُورٌ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ " أَنَّ مُعَاذًا كَانَ يُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعِشَاءَ، ثُمَّ يَنْصَرِفُ فَيَأْتِي قَوْمَهُ فَيُصَلِّي بِهِمْ تِلْكَ الصَّلَاةَ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى، وَمَنْصُورٌ هُوَ ابْنُ زَاذَانَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ کے ساتھ عشاء کی نماز پڑھتے، پھر اپنی قوم کے پاس آتے اور ان کو بھی وہی نماز پڑھاتے۔
حدیث نمبر: 5105
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، أَخْبَرَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ " أَنَّ مُعَاذًا كَانَ يُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعِشَاءَ، ثُمَّ يَنْصَرِفُ إِلَى قَوْمِهِ فَيُصَلِّي بِهِمْ، هِيَ لَهُ تَطَوُّعٌ، وَلَهُمْ فَرِيضَةٌ "..
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نبی ﷺ کے ساتھ عشاء کی نماز پڑھتے تھے، پھر اپنی قوم کو آ کر نماز پڑھاتے تھے، یہ ان کی نفل اور مقتدیوں کے لیے فرض ہوتی۔
حدیث نمبر: 5106
قَالَ: وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ، وَأَبُو الْأَزْهَرِ قَالَا: ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، فَذَكَرَهُ بِمِثْلِهِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: " فَيُصَلِّي بِهِمْ تِلْكَ الصَّلَاةَ، هِيَ لَهُ نَافِلَةٌ، وَلَهُمْ فَرِيضَةٌ ".
حافظ ثناء اللہ
عمرو بن دینار رحمہ اللہ بھی اسی طرح فرماتے ہیں کہ وہ ان کو وہی نماز پڑھاتے تھے، یہ مقتدیوں کے لیے فرض اور ان کے لیے نفل ہوتی تھی۔
حدیث نمبر: 5107
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُقْرِئِ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ قَالَ: حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مِقْسَمٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ قَالَ: " كَانَ مُعَاذٌ يُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعِشَاءَ، ثُمَّ يَأْتِي قَوْمَهُ فَيُصَلِّي بِهِمْ تِلْكَ الصَّلَاةَ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ کے ساتھ عشاء کی نماز پڑھتے، پھر اپنی قوم میں آ کر ان کو وہی نماز پڑھاتے۔
حدیث نمبر: 5108
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ " أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى بِأَصْحَابِهِ بِطَائِفَةٍ مِنْهُمْ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ، ثُمَّ صَلَّى بِالْأُخْرَى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ سَلَّمَ ". وَكَذَلِكَ رَوَاهُ يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ جَابِرٍ وَثَبَتَ مَعْنَاهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ جَابِرٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے صحابہ کے ایک گروہ کو دو رکعات پڑھائیں، پھر سلام پھیر دیا، پھر دو رکعتیں دوسرے گروہ کو پڑھائیں اور سلام پھیر دیا۔
حدیث نمبر: 5109
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْعَلَوِيُّ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ الشَّرْقِيِّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ هَاشِمِ بْنِ حَيَّانَ الطُّوسِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، ثنا أَشْعَثُ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي بَكَرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى بِهَؤُلَاءِ رَكْعَتَيْنِ، وَهَؤُلَاءِ رَكْعَتَيْنِ، فَكَانَتْ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعًا وَلَهُمْ رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ ". ⦗١٢٣⦘ قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَالْأَخِيرَةُ مِنْ هَاتَيْنِ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَافِلَةٌ، وَلِلْآخَرِينَ فَرِيضَةٌ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے ان کو دو رکعات پڑھائیں اور دوسروں کو بھی دو رکعات۔ یہ نبی ﷺ کی چار رکعات ہوئیں اور ان کی دو دو رکعات۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ آخری دو گروہ کی رکعتیں ان کے لیے فرض اور نبی ﷺ کے لیے نفل شمار ہوں گی۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ آخری دو گروہ کی رکعتیں ان کے لیے فرض اور نبی ﷺ کے لیے نفل شمار ہوں گی۔
حدیث نمبر: 5110
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مُسْلِمٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَنَّ عَطَاءً كَانَ تَفُوتُهُ الْعَتَمَةُ فَيَأْتِي وَالنَّاسُ فِي الْقِيَامِ فَيُصَلِّي مَعَهُمْ رَكْعَتَيْنِ وَيَبْنِي عَلَيْهَا رَكْعَتَيْنِ، وَأَنَّهُ رَآهُ فَعَلَ ذَلِكَ وَيَعْتَدُّ بِهِ مِنَ الْعَتَمَةِ ".
حافظ ثناء اللہ
عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عشاء کی نماز رہ جاتی تو وہ مسجد میں آتے اور لوگ قیام میں ہوتے تو ان کے ساتھ دو رکعات پڑھ لیتے اور مزید دو رکعات پڑھ کر نماز پوری کرتے، وہ اس کو عشاء کی نماز خیال کرتے تھے۔
نوٹ: ایک قوم ابو رجاء عطاردی رحمہ اللہ کے پاس آئی، وہ ظہر کی نماز پڑھنا چاہتے تھے، لیکن جماعت ہوچکی تھی۔ وہ کہنے لگے: ہم تو آپ کے ساتھ نماز پڑھنے آئے تھے۔ وہ کہنے لگے: میں تمہیں نقصان میں نہیں چھوڑوں گا، پھر کھڑے ہوئے اور ان کے ساتھ نماز پڑھی۔
نوٹ: ایک قوم ابو رجاء عطاردی رحمہ اللہ کے پاس آئی، وہ ظہر کی نماز پڑھنا چاہتے تھے، لیکن جماعت ہوچکی تھی۔ وہ کہنے لگے: ہم تو آپ کے ساتھ نماز پڑھنے آئے تھے۔ وہ کہنے لگے: میں تمہیں نقصان میں نہیں چھوڑوں گا، پھر کھڑے ہوئے اور ان کے ساتھ نماز پڑھی۔
حدیث نمبر: 5111
وَبِإِسْنَادِهِ قَالَ: أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ، أنبأ عَبْدُ الْمَجِيدِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ: قَالَ إِنْسَانٌ لِطَاوُسٍ: " وَجَدْتُ النَّاسَ فِي الْقِيَامِ، فَجَعَلْتُهَا الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ " قَالَ: " أَصَبْتَ ".
حافظ ثناء اللہ
ایک شخص نے طاؤس رحمہ اللہ سے کہا: میں نے لوگوں کو قیام میں پایا تو میں نے اس کو عشاء کی نماز بنا لیا، انہوں نے فرمایا: تو نے درست کیا۔
حدیث نمبر: 5112
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْعَلَوِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ الْجَلِيلِ الْقَطَّانُ، ثنا أَبُو الْأَزْهَرِ السَّلِيطِيُّ، ثنا مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، ثنا الْوَضِينُ بْنُ عَطَاءٍ، عَنْ مَحْفُوظِ بْنِ عَلْقَمَةَ، عَنِ ابْنِ عَائِذٍ قَالَ: دَخَلَ ثَلَاثَةُ نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسْجِدَ وَالنَّاسُ فِي صَلَاةِ الْعَصْرِ قَدْ فَرَغُوا مِنْ صَلَاةِ الظُّهْرِ فَصَلُّوا مَعَ النَّاسِ، فَلَمَّا فَرَغُوا قَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ: كَيْفَ صَنَعْتُمْ؟ قَالَ أَحَدُهُمْ: جَعَلْتُهَا الظُّهْرَ ⦗١٢٤⦘ ثُمَّ صَلَّيْتُ الْعَصْرَ، وَقَالَ الْآخَرُ: جَعَلْتُهَا الْعَصْرَ ثُمَّ صَلَّيْتُ الظُّهْرَ، وَقَالَ الْآخَرُ: جَعَلْتُهَا لِلْمَسْجِدِ ثُمَّ صَلَّيْتُ الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ. فَلَمْ يَعِبْ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ ".
حافظ ثناء اللہ
ابن عائذ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ تین آدمیوں کی جماعت جو نبی ﷺ کے صحابہ رضی اللہ عنہم میں سے تھے مسجد میں آئی اور لوگ عصر کی نماز پڑھ رہے تھے، ظہر کی نماز سے فارغ ہو چکے تھے۔ انہوں نے لوگوں کے ساتھ نماز پڑھی۔ جب فارغ ہوئے تو ایک دوسرے سے کہنے لگے: ”تم نے کیسے کیا؟“ ان میں سے ایک نے کہا: ”میں نے اس کو ظہر بنا دیا، پھر میں نے عصر کی نماز پڑھ لی۔“ اور دوسرا کہتا ہے: ”میں نے اس کو عصر بنایا اور اس کے بعد ظہر پڑھ لی۔“ تیسرے نے کہا: ”میں نے اس کو تحیۃ المسجد بنا دیا، پھر ظہر و عصر کی نماز پڑھ لی۔“ تو کسی نے کسی پر کوئی عیب نہیں لگایا۔