السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: الظهر خلف من يصلي العصر باب: عصر پڑھنے والے کے پیچھے ظہر کی نماز پڑھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 5113
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ عَبْدُ الْمَجِيدِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ قَالَ: " إِنْ أَدْرَكْتَ الْعَصْرَ وَلَمْ تُصَلِّ الظُّهْرَ، فَاجْعَلِ الَّتِي أَدْرَكْتَ مَعَ الْإِمَامِ الظُّهْرَ، وَصَلِّ الْعَصْرَ بَعْدَ ذَلِكَ ".حافظ ثناء اللہ
ابن جریج، عطا رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ اگر تو عصر کی نماز پالے اور ظہر کی نماز نہ پڑھی ہو تو اس کو ظہر بنا دے جو تو نے امام کے ساتھ پائی ہے اور اس کے بعد عصر پڑھ لے۔