السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: ما يؤمر به من أكل شيئا من ذلك أن يميته بالطبخ باب: ان میں سے کوئی چیز کھانے والے کو دیے گئے اس حکم کا بیان کہ وہ اسے پکا کر اس کی بو ختم کر دے۔
حدیث نمبر: 5067
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا الْحُسَيْنُ الْجُعْفِيُّ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ: مَرِضَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " مُرُوا أَبَا بَكْرٍ يُصَلِّ بِالنَّاسِ ". فَقَالَتْ عَائِشَةُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ أَبَا بَكْرٍ رَجُلٌ رَقِيقٌ، مَتَى يَقُمْ مَقَامَكَ لَا يَسْتَطِعْ يُصَلِّي بِالنَّاسِ، فَقَالَ: " مُرُوا أَبَا بَكْرٍ يُصَلِّ بِالنَّاسِ، فَإِنَّكُنَّ صَوَاحِبَاتُ يُوسُفَ ". قَالَ: فَصَلَّى أَبُو بَكْرٍ فِي حَيَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ". ⦗١١٢⦘ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ نَصْرٍ عَنْ حُسَيْنٍ الْجُعْفِيِّ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ بیمار ہو گئے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”ابوبکر کو حکم دو کہ لوگوں کو نماز پڑھائے۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! ابوبکر رضی اللہ عنہ نرم دل والے ہیں، وہ آپ ﷺ کی جگہ کھڑے ہو کر لوگوں کو نماز نہیں پڑھا سکیں گے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ابوبکر کو حکم دو کہ وہ لوگوں کو جماعت کروائیں۔ تم تو یوسف علیہ السلام کی عورتوں کی طرح ہو۔“ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے آپ ﷺ کی زندگی میں لوگوں کو جماعت کروائی۔