السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
جماع أبواب صلاة الإمام قاعدا بقيام، وقائما بقعود وغير ذلك -- باب: ما يستحب للإمام من الاستخلاف إذا لم يستطع القيام في الصلاة باب: امام کے بیٹھ کر اور مقتدیوں کے کھڑے ہو کر نماز پڑھنے، یا امام کے کھڑے ہو کر اور مقتدیوں کے بیٹھ کر نماز پڑھنے اور اس کے علاوہ دیگر صورتوں کے ابواب کا مجموعہ۔ -- باب: امام کے لیے کسی کو اپنا جانشین بنانا مستحب ہے جب وہ نماز میں کھڑا ہونے کی طاقت نہ رکھے۔
حدیث نمبر: 5068
بَابُ مَا يُسْتَحَبُّ لِلْإِمَامِ مِنَ الِاسْتِخْلَافِ إِذَا لَمْ يَسْتَطِعِ الْقِيَامَ فِي الصَّلَاةِ.حافظ ثناء اللہ
یہ باب اس بارے میں ہے کہ جب امام نماز میں کھڑے ہونے کی استطاعت نہ رکھے تو اس کے لیے کسی دوسرے کو اپنا جانشین (خلیفہ) بنانا مستحب ہے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْكَعْبِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ نَحْوَهُ. إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: مَرِضَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاشْتَدَّ مَرَضُهُ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے کچھ الفاظ زائد ذکر کیے ہیں، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ بیمار ہوئے اور آپ ﷺ کی بیماری بڑھ گئی۔