کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: ان میں سے کوئی چیز کھانے والے کو دیے گئے اس حکم کا بیان کہ وہ اسے پکا کر اس کی بو ختم کر دے۔
حدیث نمبر: 5065
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا الْجَرَّاحُ أَبُو وَكِيعٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ شَرِيكٍ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " نُهِيَ عَنْ أَكْلِ الثُّومِ إِلَّا مَطْبُوخًا ". قَالَ أَبُو دَاوُدَ: شَرِيكٌ هُوَ ابْنُ حَنْبَلٍ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے لہسن کھانے سے منع فرمایا، لیکن فرمایا: ”پکا کر کھالو۔“
حدیث نمبر: 5066
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ، ثنا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا خَالِدُ بْنُ مَيْسَرَةَ أَبُو حَاتِمٍ، وَكَانَ يَنْزِلُ مَكَّةَ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ أَكَلَ مِنْ هَاتَيْنِ الشَّجَرَتَيْنِ فَلَا يَقْرَبَنَّ مَسْجِدَنَا، فَإِنْ كُنْتُمْ لَا بُدَّ آكِلِيهِمَا فَأَمِيتُوهُمَا طَبْخًا ".
حافظ ثناء اللہ
معاویہ بن قرہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”جو ان دو درختوں سے کھائے وہ ہماری مسجد کے قریب نہ آئے، اگر تم نے کھانا ہی ہے تو پکا کر ان کی بو ختم کرلو۔“
حدیث نمبر: 5067
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا الْحُسَيْنُ الْجُعْفِيُّ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ: مَرِضَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " مُرُوا أَبَا بَكْرٍ يُصَلِّ بِالنَّاسِ ". فَقَالَتْ عَائِشَةُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ أَبَا بَكْرٍ رَجُلٌ رَقِيقٌ، مَتَى يَقُمْ مَقَامَكَ لَا يَسْتَطِعْ يُصَلِّي بِالنَّاسِ، فَقَالَ: " مُرُوا أَبَا بَكْرٍ يُصَلِّ بِالنَّاسِ، فَإِنَّكُنَّ صَوَاحِبَاتُ يُوسُفَ ". قَالَ: فَصَلَّى أَبُو بَكْرٍ فِي حَيَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ". ⦗١١٢⦘ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ نَصْرٍ عَنْ حُسَيْنٍ الْجُعْفِيِّ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ بیمار ہو گئے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”ابوبکر کو حکم دو کہ لوگوں کو نماز پڑھائے۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! ابوبکر رضی اللہ عنہ نرم دل والے ہیں، وہ آپ ﷺ کی جگہ کھڑے ہو کر لوگوں کو نماز نہیں پڑھا سکیں گے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ابوبکر کو حکم دو کہ وہ لوگوں کو جماعت کروائیں۔ تم تو یوسف علیہ السلام کی عورتوں کی طرح ہو۔“ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے آپ ﷺ کی زندگی میں لوگوں کو جماعت کروائی۔