السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: ترك الجماعة بعذر المرض والخوف باب: بیماری اور خوف کے عذر کی وجہ سے جماعت ترک کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 5047
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا قُتَيْبَةُ، ثنا جَرِيرٌ، عَنْ أَبِي جَنَابٍ، عَنْ مَغْرَاءَ الْعَبْدِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ سَمِعَ الْمُنَادِيَ فَلَمْ يَمْنَعْهُ مِنِ اتِّبَاعِهِ عُذْرٌ لَمْ تُقْبَلْ مِنْهُ الصَّلَاةُ الَّتِي صَلَّى " قَالُوا: وَمَا الْعُذْرُ؟ قَالَ: " خَوْفٌ أَوْ مَرَضٌ "..حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے اذان کو سنا اور بغیر کسی عذر کے نماز کے لیے نہیں آیا تو اس کی وہ نماز قبول نہ کی جائے گی جو اس نے پڑھی ہے“، انہوں نے کہا: عذر کیا ہے؟ فرمایا: ”خوف یا بیماری“۔