السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: ترك الجماعة بعذر المرض والخوف باب: بیماری اور خوف کے عذر کی وجہ سے جماعت ترک کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 5048
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ دِينَارٍ، ثنا أَبُو رَجَاءٍ قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ فَذَكَرَهُ بِمِثْلِهِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: قَالُوا وَمَا عُذْرُهُ؟ قَالَ: " خَوْفٌ أَوْ مَرَضٌ " وَقَالَ: " تِلْكَ الصَّلَاةُ الَّتِي صَلَّاهَا ".حافظ ثناء اللہ
قتیبہ بن سعید رحمہ اللہ نے اسی طرح ذکر کیا ہے، لیکن اس کے الفاظ یہ ہیں کہ انہوں نے کہا: عذر کیا ہے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”خوف، بیماری“ اور فرمایا: ”وہ نماز جو اس نے پڑھ لی ہے۔“