السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: ترك الجماعة بعذر المرض والخوف باب: بیماری اور خوف کے عذر کی وجہ سے جماعت ترک کرنے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، أنبأ أَبُو الْيَمَانِ، أنبأ شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ الْأَنْصَارِيُّ، وَكَانَ تَبِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَخَدَمَهُ وَصَحِبَهُ " أَنَّ " أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَانَ يُصَلِّي بِهِمْ فِي وَجَعِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ حَتَّى إِذَا كَانَ يَوْمُ الِاثْنَيْنِ وَهُمْ صُفُوفٌ فِي الصَّلَاةِ كَشَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِتْرَ الْحُجْرَةِ يَنْظُرُ إِلَيْنَا وَهُوَ قَائِمٌ كَأَنَّ وَجْهَهُ وَرَقَةُ مُصْحَفٍ، ثُمَّ تَبَسَّمَ فَضَحِكَ قَالَ: فَهَمَمْنَا أَنْ نَفْتَتِنَ فِي الصَّلَاةِ مِنْ فَرِحٍ بِرُؤْيَةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَنَكَصَ أَبُو بَكْرٍ عَلَى عَقِبَيْهِ لِيَصِلَ الصَّفَّ، وَظَنَّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَارِجٌ إِلَى الصَّلَاةِ قَالَ: فَأَشَارَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْنَا بِيَدِهِ أَنْ أَتِمُّوا صَلَاتَكُمْ، ثُمَّ دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَرْخَى السِّتْرَ فَتُوُفِّيَ مِنْ يَوْمِهِ ذَلِكَ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي الْيَمَانِ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنِ الزُّهْرِيِّ.سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی ﷺ کے خدمت گار اور صحابی تھے، فرماتے ہیں کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺ کے بیماری کے ایام میں ان کو نماز پڑھائی جس میں آپ ﷺ فوت ہوئے۔ سوموار کے دن جب نماز کی صفیں درست ہو گئیں تو نبی ﷺ نے پردہ ہٹایا اور کھڑے ہو کر ہماری طرف دیکھ رہے تھے، آپ ﷺ کا چہرہ کھلے ہوئے قرآن کے اوراق جیسا تھا، پھر آپ ﷺ مسکرائے تو ہم رسول اللہ ﷺ کے دیکھنے کی وجہ سے بڑے خوش ہوئے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اپنی ایڑیوں کے بل واپس پلٹے تاکہ صف میں مل سکیں اور ان کا گمان تھا کہ نبی ﷺ نماز کے لیے آئیں گے، لیکن نبی ﷺ نے ہاتھ کا اشارہ کیا کہ ”تم اپنی نماز پوری کرو۔“ پھر نبی ﷺ حجرہ میں داخل ہوئے اور پردہ لٹکا لیا، پھر اسی دن فوت ہو گئے۔