کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: بیماری اور خوف کے عذر کی وجہ سے جماعت ترک کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 5046
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، أنبأ أَبُو الْيَمَانِ، أنبأ شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ الْأَنْصَارِيُّ، وَكَانَ تَبِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَخَدَمَهُ وَصَحِبَهُ " أَنَّ " أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَانَ يُصَلِّي بِهِمْ فِي وَجَعِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ حَتَّى إِذَا كَانَ يَوْمُ الِاثْنَيْنِ وَهُمْ صُفُوفٌ فِي الصَّلَاةِ كَشَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِتْرَ الْحُجْرَةِ يَنْظُرُ إِلَيْنَا وَهُوَ قَائِمٌ كَأَنَّ وَجْهَهُ وَرَقَةُ مُصْحَفٍ، ثُمَّ تَبَسَّمَ فَضَحِكَ قَالَ: فَهَمَمْنَا أَنْ نَفْتَتِنَ فِي الصَّلَاةِ مِنْ فَرِحٍ بِرُؤْيَةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَنَكَصَ أَبُو بَكْرٍ عَلَى عَقِبَيْهِ لِيَصِلَ الصَّفَّ، وَظَنَّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَارِجٌ إِلَى الصَّلَاةِ قَالَ: فَأَشَارَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْنَا بِيَدِهِ أَنْ أَتِمُّوا صَلَاتَكُمْ، ثُمَّ دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَرْخَى السِّتْرَ فَتُوُفِّيَ مِنْ يَوْمِهِ ذَلِكَ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي الْيَمَانِ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنِ الزُّهْرِيِّ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی ﷺ کے خدمت گار اور صحابی تھے، فرماتے ہیں کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺ کے بیماری کے ایام میں ان کو نماز پڑھائی جس میں آپ ﷺ فوت ہوئے۔ سوموار کے دن جب نماز کی صفیں درست ہو گئیں تو نبی ﷺ نے پردہ ہٹایا اور کھڑے ہو کر ہماری طرف دیکھ رہے تھے، آپ ﷺ کا چہرہ کھلے ہوئے قرآن کے اوراق جیسا تھا، پھر آپ ﷺ مسکرائے تو ہم رسول اللہ ﷺ کے دیکھنے کی وجہ سے بڑے خوش ہوئے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اپنی ایڑیوں کے بل واپس پلٹے تاکہ صف میں مل سکیں اور ان کا گمان تھا کہ نبی ﷺ نماز کے لیے آئیں گے، لیکن نبی ﷺ نے ہاتھ کا اشارہ کیا کہ ”تم اپنی نماز پوری کرو۔“ پھر نبی ﷺ حجرہ میں داخل ہوئے اور پردہ لٹکا لیا، پھر اسی دن فوت ہو گئے۔
حدیث نمبر: 5047
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا قُتَيْبَةُ، ثنا جَرِيرٌ، عَنْ أَبِي جَنَابٍ، عَنْ مَغْرَاءَ الْعَبْدِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ سَمِعَ الْمُنَادِيَ فَلَمْ يَمْنَعْهُ مِنِ اتِّبَاعِهِ عُذْرٌ لَمْ تُقْبَلْ مِنْهُ الصَّلَاةُ الَّتِي صَلَّى " قَالُوا: وَمَا الْعُذْرُ؟ قَالَ: " خَوْفٌ أَوْ مَرَضٌ "..
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے اذان کو سنا اور بغیر کسی عذر کے نماز کے لیے نہیں آیا تو اس کی وہ نماز قبول نہ کی جائے گی جو اس نے پڑھی ہے“، انہوں نے کہا: عذر کیا ہے؟ فرمایا: ”خوف یا بیماری“۔
حدیث نمبر: 5048
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ دِينَارٍ، ثنا أَبُو رَجَاءٍ قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ فَذَكَرَهُ بِمِثْلِهِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: قَالُوا وَمَا عُذْرُهُ؟ قَالَ: " خَوْفٌ أَوْ مَرَضٌ " وَقَالَ: " تِلْكَ الصَّلَاةُ الَّتِي صَلَّاهَا ".
حافظ ثناء اللہ
قتیبہ بن سعید رحمہ اللہ نے اسی طرح ذکر کیا ہے، لیکن اس کے الفاظ یہ ہیں کہ انہوں نے کہا: عذر کیا ہے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”خوف، بیماری“ اور فرمایا: ”وہ نماز جو اس نے پڑھ لی ہے۔“
حدیث نمبر: 5049
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، ثنا يَحْيَى، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ إِمْلَاءً، أنبأ أَبُو الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، وَالْحَدِيثُ لِأَبِي الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى قَالَا: ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي غَزْوَةِ خَيْبَرَ: " مَنْ أَكَلَ مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ فَلَا يَأْتِيَنَّ الْمَسَاجِدَ ". هَذَا لَفْظُ حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ بَشَّارٍ، وَابْنِ الْمُثَنَّى، وَفِي حَدِيثِ أَحْمَدَ " فَلَا يَقْرَبَنَّ الْمَسَاجِدَ " وَلَيْسَ فِيهِ فِي غَزْوَةِ خَيْبَرَ وَهُوَ فِي حَدِيثِ مُسَدَّدٍ وَزَادَ يَعْنِي الثُّومَ، وَقَالَ: " فَلَا يَأْتِ مَسْجِدَنَا ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُسَدَّدٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُثَنَّى.
حافظ ثناء اللہ
(الف) نافع، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے غزوہ خیبر میں فرمایا: ”جو اس درخت سے کھائے وہ مساجد میں نہ آئے۔“
(ب) امام احمد رحمہ اللہ کی روایت میں ہے کہ: ”وہ مساجد کے قریب نہ آئے۔“
(ج) مسدد رحمہ اللہ نے یہ اضافہ کیا ہے کہ: ”لہسن کھا کر بھی وہ ہماری مسجد میں نہ آئے۔“
(ب) امام احمد رحمہ اللہ کی روایت میں ہے کہ: ”وہ مساجد کے قریب نہ آئے۔“
(ج) مسدد رحمہ اللہ نے یہ اضافہ کیا ہے کہ: ”لہسن کھا کر بھی وہ ہماری مسجد میں نہ آئے۔“