السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: فضل بعد الممشى إلى المسجد وما جاء في احتساب الآثار باب: مسجد کی طرف زیادہ فاصلہ طے کر کے جانے کی فضیلت اور قدموں کے نشانات کو باعثِ ثواب سمجھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 4980
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو طَاهِرٍ الْمُحَمَّدَآبَاذِيُّ، أنبأ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ السَّعْدِيُّ، أنبأ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ بَنِي سَلِمَةَ أَرَادُوا أَنْ يَتَحَوَّلُوا عَنْ مَنَازِلِهِمْ فَيَدْنُوا مِنَ الْمَسْجِدِ، فَكَرِهَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تَعْرَى الْمَدِينَةُ فَقَالَ: " يَا بَنِي سَلِمَةَ، أَلَا تَحْتَسِبُونَ آثَارَكُمْ؟ " قَالُوا: بَلَى، فَأَقَامُوا. أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ حُمَيْدٍ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ بنو سلمہ نے ارادہ کیا کہ وہ اپنے دور کے گھر تبدیل کر کے مسجد کے قریب ہو جائیں تو نبی ﷺ نے اس کو ناپسند کیا کہ تم ان گھروں کو خالی کرو اور آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے بنو سلمہ! کیا تم کو اپنے نشاناتِ قدم کا ثواب نہیں چاہیے؟“ انہوں نے کہا: ”کیوں نہیں“ تو انہوں نے وہاں ہی قیام کیا۔