السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: فضل بعد الممشى إلى المسجد وما جاء في احتساب الآثار باب: مسجد کی طرف زیادہ فاصلہ طے کر کے جانے کی فضیلت اور قدموں کے نشانات کو باعثِ ثواب سمجھنے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الدَّقِيقِيُّ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ ⦗٩١⦘ سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ أُبِيِّ بْنِ كَعْبٍ قَالَ: " كَانَ رَجُلٌ مَا أَعْلَمُ أَحَدًا مِنَ النَّاسِ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ مِمَّنْ يُصَلِّي الْقِبْلَةَ أَبْعَدَ مَنْزِلًا مِنَ الْمَسْجِدِ مِنْهُ فَكَانَ يَحْضُرُ الصَّلَوَاتِ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: فَقِيلَ لَهُ: لَوِ اشْتَرَيْتَ حِمَارًا فَرَكِبْتَهُ فِي الرَّمْضَاءِ وَالظُّلْمَاءِ؟ فَقَالَ: وَاللهِ مَا أُحِبُّ أَنْ مَنْزِلِي يُلْزِقُ الْمَسْجِدَ، فَأُخْبِرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَلِكَ فَسَأَلَهُ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، كَيْمَا يُكْتَبُ أَثَرِي، وَخُطَايَ، وَرُجُوعِي إِلَى أَهْلِي، وَإِقْبَالِي، وَإِدْبَارِي، أَوْ كَمَا قَالَ، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَنْطَاكَ اللهُ ذَلِكَ كُلَّهُ، وَأَعْطَاكَ مَا احْتَسَبْتَ أَجْمَعَ ". أَوْ كَمَا قَالَ. أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ أَوْجُهٍ عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ.ابوعثمان، سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ میں ایک شخص کو جانتا ہوں جو مدینہ کا رہائشی تھا۔ اس کا گھر مسجد سے کافی دور تھا، لیکن وہ نمازوں میں نبی ﷺ کے ساتھ حاضر ہوتا تھا۔ اس سے کہا گیا: اگر آپ ایک گدھا خرید لیں تو گرمی اور اندھیرے میں اس پر سوار ہو کر آ جایا کریں۔ اس نے کہا: میں پسند نہیں کرتا کہ میرا گھر مسجد کے ساتھ ہو۔ اس کی خبر نبی ﷺ کو دی گئی تو آپ ﷺ نے اس سے پوچھا، اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! پھر میرے قدموں کے نشانات کیسے لکھے جائیں گے اور میرا اپنے گھر والوں کی طرف پلٹ کر جانا اور واپس آنا، یا جیسے اس نے کہا، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تیرے دور کے سفر کا اللہ تجھے اجر دے گا اور جو تیری نیت ہے سب کچھ تجھے ملے گا۔“