السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: فضل بعد الممشى إلى المسجد وما جاء في احتساب الآثار باب: مسجد کی طرف زیادہ فاصلہ طے کر کے جانے کی فضیلت اور قدموں کے نشانات کو باعثِ ثواب سمجھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 4981
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْفَضْلِ الْمُزَكِّي، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، ثنا الْمُعْتَمِرُ قَالَ: سَمِعْتُ كَهْمَسًا يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ قَالَ: " أَرَادَ بَنُو سَلِمَةَ أَنْ يَتَحَوَّلُوا قُرْبَ الْمَسْجِدِ، وَالْبِقَاعُ خَالِيَةٌ قَالَ: فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " يَا بَنِي سَلِمَةَ، دِيَارَكُمْ، فَإِنَّمَا تُكْتَبُ آثَارُكُمْ " قَالَ: فَأَقَامُوا وَقَالُوا: مَا يَسُرُّنَا أَنَّا كُنَّا تَحَوَّلْنَا ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَاصِمِ بْنِ النَّضْرِ عَنِ الْمُعْتَمِرِ بْنِ سُلَيْمَانَ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ بنو سلمہ نے مسجد کے قریب آنا چاہا اور جگہ بھی خالی تھی۔ یہ بات نبی ﷺ کو پہنچی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے بنو سلمہ! تم اپنے گھروں کو لازم پکڑو، تمہارے نشاناتِ قدم لکھے جائیں گے۔“ وہ وہیں ٹھہرے رہے اور انہوں نے کہا: ہمیں اس بات نے خوش نہیں کیا کہ ہم اپنے گھروں کو تبدیل کر لیتے۔