کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: مسجد کی طرف زیادہ فاصلہ طے کر کے جانے کی فضیلت اور قدموں کے نشانات کو باعثِ ثواب سمجھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 4978
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْحَارِثِيُّ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنِي بُرَيْدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ جَدِّهِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ أَعْظَمَ النَّاسِ أَجْرًا فِي الصَّلَاةِ أَبْعَدُهُمْ إِلَيْهَا مَمْشًى، فَأَبْعَدُهُمْ، وَالَّذِي يَنْتَظِرُ الصَّلَاةَ حَتَّى يُصَلِّيَهَا مَعَ الْإِمَامِ فِي جَمَاعَةٍ أَعْظَمُ أَجْرًا مِنَ الَّذِي يُصَلِّيهَا ثُمَّ يَنَامُ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي كُرَيْبٍ وَغَيْرِهِ عَنْ أَبِي أُسَامَةَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”نماز کے لیے جتنی دور سے چل کر آیا جائے اتنا ہی وہ آدمی تمام لوگوں سے زیادہ اجر پائے گا اور وہ شخص اجر کے اعتبار سے زیادہ ہے جو امام کا انتظار کرتا ہے کہ اس کے ساتھ نماز پڑھے اس شخص سے جو نماز پڑھتا ہے اور سو جاتا ہے۔“
حدیث نمبر: 4979
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الدَّقِيقِيُّ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ ⦗٩١⦘ سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ أُبِيِّ بْنِ كَعْبٍ قَالَ: " كَانَ رَجُلٌ مَا أَعْلَمُ أَحَدًا مِنَ النَّاسِ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ مِمَّنْ يُصَلِّي الْقِبْلَةَ أَبْعَدَ مَنْزِلًا مِنَ الْمَسْجِدِ مِنْهُ فَكَانَ يَحْضُرُ الصَّلَوَاتِ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: فَقِيلَ لَهُ: لَوِ اشْتَرَيْتَ حِمَارًا فَرَكِبْتَهُ فِي الرَّمْضَاءِ وَالظُّلْمَاءِ؟ فَقَالَ: وَاللهِ مَا أُحِبُّ أَنْ مَنْزِلِي يُلْزِقُ الْمَسْجِدَ، فَأُخْبِرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَلِكَ فَسَأَلَهُ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، كَيْمَا يُكْتَبُ أَثَرِي، وَخُطَايَ، وَرُجُوعِي إِلَى أَهْلِي، وَإِقْبَالِي، وَإِدْبَارِي، أَوْ كَمَا قَالَ، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَنْطَاكَ اللهُ ذَلِكَ كُلَّهُ، وَأَعْطَاكَ مَا احْتَسَبْتَ أَجْمَعَ ". أَوْ كَمَا قَالَ. أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ أَوْجُهٍ عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ.
حافظ ثناء اللہ
ابوعثمان، سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ میں ایک شخص کو جانتا ہوں جو مدینہ کا رہائشی تھا۔ اس کا گھر مسجد سے کافی دور تھا، لیکن وہ نمازوں میں نبی ﷺ کے ساتھ حاضر ہوتا تھا۔ اس سے کہا گیا: اگر آپ ایک گدھا خرید لیں تو گرمی اور اندھیرے میں اس پر سوار ہو کر آ جایا کریں۔ اس نے کہا: میں پسند نہیں کرتا کہ میرا گھر مسجد کے ساتھ ہو۔ اس کی خبر نبی ﷺ کو دی گئی تو آپ ﷺ نے اس سے پوچھا، اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! پھر میرے قدموں کے نشانات کیسے لکھے جائیں گے اور میرا اپنے گھر والوں کی طرف پلٹ کر جانا اور واپس آنا، یا جیسے اس نے کہا، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تیرے دور کے سفر کا اللہ تجھے اجر دے گا اور جو تیری نیت ہے سب کچھ تجھے ملے گا۔“
حدیث نمبر: 4980
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو طَاهِرٍ الْمُحَمَّدَآبَاذِيُّ، أنبأ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ السَّعْدِيُّ، أنبأ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ بَنِي سَلِمَةَ أَرَادُوا أَنْ يَتَحَوَّلُوا عَنْ مَنَازِلِهِمْ فَيَدْنُوا مِنَ الْمَسْجِدِ، فَكَرِهَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تَعْرَى الْمَدِينَةُ فَقَالَ: " يَا بَنِي سَلِمَةَ، أَلَا تَحْتَسِبُونَ آثَارَكُمْ؟ " قَالُوا: بَلَى، فَأَقَامُوا. أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ حُمَيْدٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ بنو سلمہ نے ارادہ کیا کہ وہ اپنے دور کے گھر تبدیل کر کے مسجد کے قریب ہو جائیں تو نبی ﷺ نے اس کو ناپسند کیا کہ تم ان گھروں کو خالی کرو اور آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے بنو سلمہ! کیا تم کو اپنے نشاناتِ قدم کا ثواب نہیں چاہیے؟“ انہوں نے کہا: ”کیوں نہیں“ تو انہوں نے وہاں ہی قیام کیا۔
حدیث نمبر: 4981
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْفَضْلِ الْمُزَكِّي، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، ثنا الْمُعْتَمِرُ قَالَ: سَمِعْتُ كَهْمَسًا يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ قَالَ: " أَرَادَ بَنُو سَلِمَةَ أَنْ يَتَحَوَّلُوا قُرْبَ الْمَسْجِدِ، وَالْبِقَاعُ خَالِيَةٌ قَالَ: فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " يَا بَنِي سَلِمَةَ، دِيَارَكُمْ، فَإِنَّمَا تُكْتَبُ آثَارُكُمْ " قَالَ: فَأَقَامُوا وَقَالُوا: مَا يَسُرُّنَا أَنَّا كُنَّا تَحَوَّلْنَا ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَاصِمِ بْنِ النَّضْرِ عَنِ الْمُعْتَمِرِ بْنِ سُلَيْمَانَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ بنو سلمہ نے مسجد کے قریب آنا چاہا اور جگہ بھی خالی تھی۔ یہ بات نبی ﷺ کو پہنچی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے بنو سلمہ! تم اپنے گھروں کو لازم پکڑو، تمہارے نشاناتِ قدم لکھے جائیں گے۔“ وہ وہیں ٹھہرے رہے اور انہوں نے کہا: ہمیں اس بات نے خوش نہیں کیا کہ ہم اپنے گھروں کو تبدیل کر لیتے۔
حدیث نمبر: 4982
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا يَحْيَى، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مِهْرَانَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الْأَبْعَدُ فَالْأَبْعَدُ مِنَ الْمَسْجِدِ أَعْظَمُ أَجْرًا ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ: ”مسجد سے گھروں کا دور ہونا بڑے اجر کا سبب ہے۔“