حدیث نمبر: 4910
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَبَّاسِ، ثنا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى، ثنا صَدَقَةُ، ثنا يَحْيَى بْنُ الْحَارِثِ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ مَشَى إِلَى صَلَاةٍ مَكْتُوبَةٍ وَهُوَ مُتَطَهِّرٌ فَأَجْرُهُ كَأَجْرِ الْحَاجِّ الْمُحْرِمِ، وَمَنْ مَشَى إِلَى سُبْحَةِ الضُّحَى لَا يُنْهِضُهُ إِلَّا إِيَّاهُ فَأَجْرُهُ كَأَجْرِ الْمُعْتَمِرِ، وَصَلَاةٌ عَلَى أَثَرِ صَلَاةٍ لَا لَغْوَ بَيْنَهُمَا كِتَابٌ فِي عِلِّيِّينَ ".
حافظ ثناء اللہ

قاسم بن عبدالرحمن سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو بندہ باوضو ہو کر فرض نماز پڑھنے کے لیے آتا ہے، اس کا اجر ایسے ہے جیسے احرام باندھ کر حج کرنے والے کا اجر ہوتا ہے اور جو بندہ چاشت کے نفل پڑھنے کے لیے آتا ہے، اس کا اجر ایسے ہے جیسے عمرہ کرنے والے کا اجر ہوتا ہے اور وہ نماز جو نماز کے بعد ادا کی جائے اور ان کے درمیان فضول بات نہ کی ہو، وہ «عِلِّیِّینَ» میں لکھ دی جاتی ہے۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 4910
درجۂ حدیث محدثین: حسن لغيره
تخریج حدیث «حسن لغيره۔ ابوداؤد 558»