کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: اس شخص کا بیان جس نے اسے اتنی تاخیر سے پڑھنا مستحب قرار دیا کہ اونٹنیوں کے بچوں کے پاؤں گرمی سے جلنے لگیں۔
حدیث نمبر: 4908
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ، ثنا أَيُّوبُ، عَنِ الْقَاسِمِ الشَّيْبَانِيِّ، أَنَّ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ رَأَى قَوْمًا يُصَلُّونَ فِي مَسْجِدِ قُبَاءٍ مِنَ الضُّحَى فَقَالَ: " أَمَا لَقَدْ عَلِمُوا أَنَّ الصَّلَاةَ فِي غَيْرِ هَذِهِ السَّاعَةِ أَفْضَلُ، إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ صَلَاةَ الْأَوَّابِينَ حِينَ تَرْمَضُ الْفِصَالُ ". وَقَالَ مَرَّةً وَأُنَاسًا يُصَلُّونَ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ زُهَيْرِ بْنِ حَرْبٍ وَغَيْرِهِ عَنْ إِسْمَاعِيلَ.
حافظ ثناء اللہ
قاسم شیبانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے ایک قوم کو مسجدِ قبا میں چاشت کی نماز پڑھتے دیکھا تو فرمایا: حالانکہ انھیں علم ہے کہ اس وقت کے علاوہ نماز پڑھنا افضل ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «صَلَاةُ الْأَوَّابِينَ حِينَ تَرْمَضُ الْفِصَالُ» ”صلوٰۃ الاوابین کا وقت جب اونٹنی کے بچے کے پاؤں جلنا شروع ہو جائیں۔“ اور ایک مرتبہ فرمایا: جب لوگ نماز پڑھ رہے تھے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 4908
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن۔ مسلم 748»
حدیث نمبر: 4909
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا هِشَامٌ، عَنِ الْقَاسِمِ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، أَنَّهُ رَأَى نَاسًا جُلُوسًا إِلَى قَاصٍّ، فَلَمَّا طَلَعَتِ الشَّمْسُ ابْتَدَرُوا السَّوَارِيَ يُصَلُّونَ، فَقَالَ زَيْدُ بْنُ أَرْقَمَ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " صَلَاةُ الْأَوَّابِينَ إِذَا رَمِضَتِ الْفِصَالُ ". أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِيثِ هِشَامِ بْنِ أَبِي عَبْدِ اللهِ الدَّسْتُوَائِيِّ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَوْفٍ الشَّيْبَانِيِّ.
حافظ ثناء اللہ
قاسم شیبانی رحمہ اللہ، سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے لوگوں کو دیکھا کہ وہ کناروں میں بیٹھے ہوئے تھے، جب سورج طلوع ہوا تو انہوں نے مسجد کے ستونوں کی طرف جلدی کی اور وہ نماز پڑھ رہے تھے، تو سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”«صَلَاةُ الْأَوَّابِينَ» ”صلاۃ الاوابین“ کا افضل وقت وہ ہے جب «تَرْمَضُ الْفِصَالُ» ”اونٹنی کے بچے کے پاؤں جلنا شروع ہو جائیں۔“”
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 4909
درجۂ حدیث محدثین: حسن لغيره
تخریج حدیث «حسن لغيره۔ انظر ماقبله»
حدیث نمبر: 4910
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَبَّاسِ، ثنا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى، ثنا صَدَقَةُ، ثنا يَحْيَى بْنُ الْحَارِثِ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ مَشَى إِلَى صَلَاةٍ مَكْتُوبَةٍ وَهُوَ مُتَطَهِّرٌ فَأَجْرُهُ كَأَجْرِ الْحَاجِّ الْمُحْرِمِ، وَمَنْ مَشَى إِلَى سُبْحَةِ الضُّحَى لَا يُنْهِضُهُ إِلَّا إِيَّاهُ فَأَجْرُهُ كَأَجْرِ الْمُعْتَمِرِ، وَصَلَاةٌ عَلَى أَثَرِ صَلَاةٍ لَا لَغْوَ بَيْنَهُمَا كِتَابٌ فِي عِلِّيِّينَ ".
حافظ ثناء اللہ
قاسم بن عبدالرحمن سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو بندہ باوضو ہو کر فرض نماز پڑھنے کے لیے آتا ہے، اس کا اجر ایسے ہے جیسے احرام باندھ کر حج کرنے والے کا اجر ہوتا ہے اور جو بندہ چاشت کے نفل پڑھنے کے لیے آتا ہے، اس کا اجر ایسے ہے جیسے عمرہ کرنے والے کا اجر ہوتا ہے اور وہ نماز جو نماز کے بعد ادا کی جائے اور ان کے درمیان فضول بات نہ کی ہو، وہ «عِلِّیِّینَ» میں لکھ دی جاتی ہے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 4910
درجۂ حدیث محدثین: حسن لغيره
تخریج حدیث «حسن لغيره۔ ابوداؤد 558»