السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: من استحب تأخيرها حتى ترمض الفصال باب: اس شخص کا بیان جس نے اسے اتنی تاخیر سے پڑھنا مستحب قرار دیا کہ اونٹنیوں کے بچوں کے پاؤں گرمی سے جلنے لگیں۔
حدیث نمبر: 4909
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا هِشَامٌ، عَنِ الْقَاسِمِ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، أَنَّهُ رَأَى نَاسًا جُلُوسًا إِلَى قَاصٍّ، فَلَمَّا طَلَعَتِ الشَّمْسُ ابْتَدَرُوا السَّوَارِيَ يُصَلُّونَ، فَقَالَ زَيْدُ بْنُ أَرْقَمَ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " صَلَاةُ الْأَوَّابِينَ إِذَا رَمِضَتِ الْفِصَالُ ". أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِيثِ هِشَامِ بْنِ أَبِي عَبْدِ اللهِ الدَّسْتُوَائِيِّ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَوْفٍ الشَّيْبَانِيِّ.حافظ ثناء اللہ
قاسم شیبانی رحمہ اللہ، سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے لوگوں کو دیکھا کہ وہ کناروں میں بیٹھے ہوئے تھے، جب سورج طلوع ہوا تو انہوں نے مسجد کے ستونوں کی طرف جلدی کی اور وہ نماز پڑھ رہے تھے، تو سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”«صَلَاةُ الْأَوَّابِينَ» ”صلاۃ الاوابین“ کا افضل وقت وہ ہے جب «تَرْمَضُ الْفِصَالُ» ”اونٹنی کے بچے کے پاؤں جلنا شروع ہو جائیں۔“”