السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: ذكر الحديث الذي روي في ترك الرسول صلى الله عليه وسلم صلاة الضحى، وأن المراد به أنه كان لا يداوم عليها باب: اس حدیث کا تذکرہ جو رسول اللہ ﷺ کے نماز چاشت ترک کرنے کے بارے میں مروی ہے، اور یہ کہ اس سے مراد یہ ہے کہ آپ ﷺ اس پر ہمیشگی اختیار نہیں فرماتے تھے۔
حدیث نمبر: 4911
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، أنبأ ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: " مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبَّحَ سُبْحَةَ الضُّحَى، وَإِنِّي لَأُسَبِّحُهَا ". زَادَ مَعْمَرٌ فِي رِوَايَتِهِ: وَمَا أَحْدَثَ النَّاسُ شَيْئًا أَحَبَّ إِلَيَّ مِنْهَا. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ آدَمَ عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، ⦗٧١⦘ وَعِنْدِي وَاللهُ أَعْلَمُ أَنَّ الْمُرَادَ بِهِ مَا رَأَيْتُهُ دَاوَمَ عَلَى سُبْحَةِ الضُّحَى " وَإِنِّي لَأُسَبِّحُهَا " أَيْ أُدَاوِمُ عَلَيْهَا. وَكَذَا قَوْلُهَا: " مَا أَحْدَثَ النَّاسُ شَيْئًا " تَعْنِي الْمُدَاوَمَةَ عَلَيْهَا فَقَدْ.حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے نبی ﷺ کو (ہمیشہ) چاشت کے نفل پڑھتے نہیں دیکھا، ورنہ میں بھی ان نوافل کو (ہمیشہ) پڑھتی۔
(ب) معمر کی روایت میں اضافہ ہے کہ لوگوں نے کوئی چیز بیان نہیں کی، جو مجھے اس سے زیادہ محبوب ہو۔
(نوٹ) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا فرمان «إِنِّي لَأُسَبِّحُهَا» ”یعنی میں ان پر ہمیشگی کرتی“، «وَمَا أَحْدَثَ النَّاسُ شَيْئًا» ”سے ان کی مراد یہ تھی کہ جس پر لوگوں نے ہمیشگی کی ہو“۔