السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: من قال: لا ينقض القائم من الليل وتره باب: اس شخص کا بیان جس نے کہا: ”رات کو قیام کرنے والا اپنے وتر کو نہ توڑے گا“۔
حدیث نمبر: 4849
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى يَقُولُ: " مَنْ أَوْتَرَ أَوَّلَ اللَّيْلِ صَلَّى مَثْنَى حَتَّى يُصْبِحَ ".حافظ ثناء اللہ
ربیع بن سلیمان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ امام شافعی رحمہ اللہ نے مجھے خبر دی کہ جس نے رات کے پہلے حصے میں وتر پڑھے تو وہ صبح تک دو دو رکعات نماز پڑھے۔
(ب) حطان بن عبداللہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: وتر تین قسم کے ہیں: جو رات کے ابتدائی حصے میں وتر پڑھنا چاہے تو پڑھ لے، پھر وہ بیدار ہو تو ایک رکعت کے ذریعے جوڑا بنا لے، پھر دو دو رکعات کر کے صبح تک نماز پڑھے، پھر وہ وتر پڑھ لے۔ اگر چاہے تو دو دو رکعات صبح تک پڑھے، اگر چاہے تو رات کے آخری حصے میں وتر پڑھ لے۔