السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: من قال: لا ينقض القائم من الليل وتره باب: اس شخص کا بیان جس نے کہا: ”رات کو قیام کرنے والا اپنے وتر کو نہ توڑے گا“۔
حدیث نمبر: 4850
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ، ثنا أَبِي، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي هَارُونَ الْغَنَوِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ حِطَّانَ بْنَ عَبْدِ اللهِ يَقُولُ: سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: " الْوِتْرُ ثَلَاثَةُ أَنْوَاعٍ، فَمَنْ شَاءَ أَوْتَرَ أَوَّلَ اللَّيْلِ، ثُمَّ إِنْ صَلَّى صَلَّى رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ حَتَّى يُصْبِحَ، وَمَنْ شَاءَ أَوْتَرَ ثُمَّ إِنَّ صَلَّى صَلَّى رَكْعَةً شَفْعًا لِوِتْرِهِ ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ أَوْتَرَ، وَمَنْ شَاءَ لَمْ يُوتِرْ حَتَّى يَكُونَ آخِرَ صَلَاتِهِ.حافظ ثناء اللہ
حطان بن عبداللہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے سنا کہ وتر کی تین اقسام ہیں: جو چاہے رات کے پہلے حصہ میں وتر پڑھ لے۔ پھر اگر وہ نماز پڑھنا چاہے تو صبح تک دو دو رکعات پڑھتا رہے۔ اگر وہ چاہے تو ایک رکعت پڑھ کر اپنے وتر کو جوڑا بنا لے، پھر صبح تک دو دو رکعات پڑھے، پھر وتر پڑھ لے اور جو چاہے وتر نہ پڑھے اور رات کے آخری حصہ میں ادا کر لے۔