کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: اس شخص کا بیان جس نے کہا: ”رات کو قیام کرنے والا اپنے وتر کو نہ توڑے گا“۔
حدیث نمبر: 4844
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا مُلَازِمُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ بَدْرٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ طَلْقٍ قَالَ: زَارَنَا طَلْقُ بْنُ عَلِيٍّ فِي يَوْمٍ مِنْ رَمَضَانَ، وَأَمْسَى عِنْدَنَا، وَأَفْطَرَ ثُمَّ قَامَ بِنَا تِلْكَ اللَّيْلَةَ وَأَوْتَرَ بِنَا، ثُمَّ انْحَدَرَ إِلَى مَسْجِدِهِ ⦗٥٣⦘ فَصَلَّى بِأَصْحَابِهِ، حَتَّى إِذَا بَقِيَ الْوِتْرُ قَدَّمَ رَجُلًا، فَقَالَ: أَوْتِرْ بِأَصْحَابِكَ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَا وِتْرَانِ فِي لَيْلَةٍ ".
حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن بدر، قیس بن طلق سے نقل فرماتے ہیں کہ طلق بن علی رضی اللہ عنہ رمضان میں ایک دن ہمارے پاس آئے، انہوں نے ہمارے پاس افطاری کی، رات کا قیام کیا اور وتر ہمارے ساتھ پڑھے، پھر اپنی مسجد کی طرف پلٹے، انہوں نے اپنے ساتھیوں کو نماز پڑھائی اور ان میں سے ایک شخص کو وتر کے لیے آگے کر دیا کہ اپنے ساتھیوں کو وتر پڑھاؤ، کیونکہ میں نے نبی ﷺ سے سنا ہے کہ «لَا وِتْرَانِ فِي لَيْلَةٍ» ”ایک رات میں دو وتر نہیں ہوتے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 4844
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن۔ ابوداؤد 1439»
حدیث نمبر: 4845
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو بَدْرٍ، ثنا أَبُو سِنَانٍ سَعِيدُ بْنُ سِنَانٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ أَنَّهُ سَأَلَ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ عَنِ الْوِتْرِ، فَقَالَ: " كَانَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ يُوتِرُ أَوَّلَ اللَّيْلِ، فَإِذَا قَامَ نَقَضَ وِتْرَهُ، ثُمَّ صَلَّى ثُمَّ أَوْتَرَ آخِرَ صَلَاتِهِ أَوَاخِرَ اللَّيْلِ، وَكَانَ عُمَرُ يُوتِرُ آخِرَ اللَّيْلِ، وَكَانَ خَيْرًا مِنِّي وَمِنْهُمَا أَبُو بَكْرٍ يُوتِرُ أَوَّلَ اللَّيْلِ وَيَشْفَعُ آخِرَهُ يُرِيدُ بِذَلِكَ يُصَلِّي مَثْنَى مَثْنَى، وَلَا يَنْقُضُ وِتْرَهُ ".
حافظ ثناء اللہ
عمرو بن مرہ نے سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے وتر کے بارے میں سوال کیا تو وہ کہنے لگے: سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما رات کے پہلے حصہ میں وتر پڑھتے تھے، جب رات کو بیدار ہوتے تو اپنے وتر کو توڑ دیتے، پھر نماز پڑھتے، پھر وتر کی نماز رات کے آخری حصہ میں ہوتی تھی، اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ رات کے آخری حصہ میں وتر پڑھتے تھے اور وہ مجھ سے بہتر تھے، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ بھی رات کے ابتدائی حصہ میں نماز پڑھتے اور آخری حصہ میں اس کو جوڑ لیتے تھے۔ اس سے ان کی مراد یہ تھی کہ وہ رات کی نماز دو دو رکعات پڑھتے اور اپنے وتر کو نہیں توڑتے تھے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 4845
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن۔ ابن ابي شيبه 6706»
حدیث نمبر: 4846
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْكَرِيمِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، ثنا مُحَمَّدٌ هُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنْ نَقْضِ الْوِتْرِ، قَالَ: " إِذَا أَوْتَرْتَ أَوَّلَ اللَّيْلِ فَلَا تُوتِرْ آخِرَهُ، وَإِذَا أَوْتَرْتَ آخِرَهُ فَلَا تُوتِرْ أَوَّلَهُ ". وَسَأَلْتُ عَائِذَ بْنَ عَمْرٍو وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نَقْضِ الْوِتْرِ، فَقَالَ: " إِذَا أَوْتَرْتَ أَوَّلَهُ فَلَا تُوتِرْ آخِرَهُ، وَإِذَا أَوْتَرْتَ آخِرَهُ فَلَا تُوتِرْ أَوَّلَهُ ". أَخْرَجَ الْبُخَارِيُّ حَدِيثَ عَائِذِ بْنِ عَمْرٍو فِي الصَّحِيحِ. قَالَ: وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ الشَّجَرَةِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
حافظ ثناء اللہ
ابو جمرہ فرماتے ہیں کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے «نَقْضِ وِتْرِ» ”وتر توڑنے“ کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ جب آپ رات کے ابتدائی حصہ میں وتر پڑھ لیں تو آخری حصہ میں وتر نہ پڑھیں اور جب رات کے آخر میں وتر پڑھ لو تو ابتدا میں وتر نہ پڑھو۔ میں نے عائذ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے وتر کو توڑنے کے متعلق سوال کیا جو نبی ﷺ کے صحابہ میں سے تھے، وہ فرمانے لگے کہ جب آپ رات کے شروع میں وتر پڑھ لیں تو رات کے آخری حصہ میں نہ پڑھیں، جب رات کے آخری حصہ میں وتر پڑھ لیں تو ابتدائی حصہ میں نہ پڑھیں۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 4846
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ بخاري 3942»
حدیث نمبر: 4847
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْعَدْلُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْعَبْدِيُّ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِي مُرَّةَ مَوْلَى عَقِيلِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، أَنَّهُ سَأَلَ أَبَا هُرَيْرَةَ: كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوتِرُ؟ قَالَ: فَسَكَتَ أَبُو هُرَيْرَةَ، ثُمَّ سَأَلَهُ فَسَكَتَ، ثُمَّ سَأَلَهُ فَسَكَتَ، ثُمَّ سَأَلَهُ، فَقَالَ: إِنْ شِئْتَ أَخْبَرْتُكَ كَيْفَ أَصْنَعُ أَنَا، قَالَ: فَقُلْتُ: فَأَخْبِرْنِي، فَقَالَ: " إِذَا صَلَّيْتُ الْعِشَاءَ صَلَّيْتُ بَعْدَهَا خَمْسَ رَكَعَاتٍ ثُمَّ أَنَامُ، فَإِنْ قُمْتُ مِنَ اللَّيْلِ صَلَّيْتُ مَثْنَى مَثْنَى، فَإِنْ أَصْبَحْتُ أَصْبَحْتُ عَلَى وِتْرٍ ".
حافظ ثناء اللہ
عقیل بن ابی طالب نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہما سے نبی کریم ﷺ کے وتر کے بارے میں سوال کیا تو آپ رضی اللہ عنہ خاموش ہو گئے، پھر انہوں نے سوال کیا تو وہ پھر خاموش ہو گئے، پھر سوال کیا تو آپ رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: اگر آپ چاہتے ہیں تو میں آپ کو خبر دیتا ہوں کہ میں کیسے کیا کرتا تھا۔ عقیل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے کہا: مجھے خبر دو۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں پانچ رکعات پڑھتا، پھر سو جاتا، اگر میں رات کو بیدار ہوتا تو پھر دو دو رکعات پڑھ لیتا اور اگر میں صبح کرتا تو صبح کے وقت وتر پڑھ لیتا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 4847
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ مالك 250»
حدیث نمبر: 4848
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَسِيدُ بْنُ عَاصِمٍ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ حَفْصٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عُمَارَةَ، عَنْ أَبِي عَطِيَّةَ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: " ذَلِكَ الَّذِي يَلْعَبُ بِوِتْرِهِ "، يَعْنِي الَّذِي يُوتِرُ ثُمَّ يَنَامُ، فَإِذَا قَامَ شَفَعَ بِرَكْعَةٍ ثُمَّ صَلَّى، يَعْنِي ثُمَّ أَعَادَ وِتْرَهُ.
حافظ ثناء اللہ
ابو عطیہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ ”وہ اپنے وتر سے کھیلتے تھے، یعنی وتر پڑھتے، پھر سو جاتے، جب رات کو کھڑے ہوتے ایک رکعت پڑھ کر اس کو جوڑا بنا دیتے۔ پھر نماز پڑھتے، یعنی وتر دوبارہ پڑھتے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 4848
درجۂ حدیث محدثین: حسن لغيره
تخریج حدیث «حسن لغيره۔ ابن ابي شيبه 6744»
حدیث نمبر: 4849
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى يَقُولُ: " مَنْ أَوْتَرَ أَوَّلَ اللَّيْلِ صَلَّى مَثْنَى حَتَّى يُصْبِحَ ".
حافظ ثناء اللہ
ربیع بن سلیمان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ امام شافعی رحمہ اللہ نے مجھے خبر دی کہ جس نے رات کے پہلے حصے میں وتر پڑھے تو وہ صبح تک دو دو رکعات نماز پڑھے۔
(ب) حطان بن عبداللہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: وتر تین قسم کے ہیں: جو رات کے ابتدائی حصے میں وتر پڑھنا چاہے تو پڑھ لے، پھر وہ بیدار ہو تو ایک رکعت کے ذریعے جوڑا بنا لے، پھر دو دو رکعات کر کے صبح تک نماز پڑھے، پھر وہ وتر پڑھ لے۔ اگر چاہے تو دو دو رکعات صبح تک پڑھے، اگر چاہے تو رات کے آخری حصے میں وتر پڑھ لے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 4849
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ كتاب الام 1/259»
حدیث نمبر: 4850
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ، ثنا أَبِي، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي هَارُونَ الْغَنَوِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ حِطَّانَ بْنَ عَبْدِ اللهِ يَقُولُ: سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: " الْوِتْرُ ثَلَاثَةُ أَنْوَاعٍ، فَمَنْ شَاءَ أَوْتَرَ أَوَّلَ اللَّيْلِ، ثُمَّ إِنْ صَلَّى صَلَّى رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ حَتَّى يُصْبِحَ، وَمَنْ شَاءَ أَوْتَرَ ثُمَّ إِنَّ صَلَّى صَلَّى رَكْعَةً شَفْعًا لِوِتْرِهِ ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ أَوْتَرَ، وَمَنْ شَاءَ لَمْ يُوتِرْ حَتَّى يَكُونَ آخِرَ صَلَاتِهِ.
حافظ ثناء اللہ
حطان بن عبداللہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے سنا کہ وتر کی تین اقسام ہیں: جو چاہے رات کے پہلے حصہ میں وتر پڑھ لے۔ پھر اگر وہ نماز پڑھنا چاہے تو صبح تک دو دو رکعات پڑھتا رہے۔ اگر وہ چاہے تو ایک رکعت پڑھ کر اپنے وتر کو جوڑا بنا لے، پھر صبح تک دو دو رکعات پڑھے، پھر وتر پڑھ لے اور جو چاہے وتر نہ پڑھے اور رات کے آخری حصہ میں ادا کر لے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 4850
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ اخرجه الشافعي في مسنده 1772»