❮
❯
حدیث نمبر: 4848
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَسِيدُ بْنُ عَاصِمٍ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ حَفْصٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عُمَارَةَ، عَنْ أَبِي عَطِيَّةَ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: " ذَلِكَ الَّذِي يَلْعَبُ بِوِتْرِهِ "، يَعْنِي الَّذِي يُوتِرُ ثُمَّ يَنَامُ، فَإِذَا قَامَ شَفَعَ بِرَكْعَةٍ ثُمَّ صَلَّى، يَعْنِي ثُمَّ أَعَادَ وِتْرَهُ.
حافظ ثناء اللہ

ابو عطیہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ ”یہ وہ شخص ہے جو اپنے وتر سے کھیلتا ہے“، یعنی جو وتر پڑھتا ہے، پھر سو جاتا ہے، جب کھڑا ہوتا ہے تو ایک رکعت پڑھ کر اس کو جوڑا بنا دیتا ہے، پھر نماز پڑھتا ہے، یعنی پھر وتر دوبارہ پڑھتا ہے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 4848
درجۂ حدیث محدثین: حسن لغيره
تخریج حدیث «حسن لغيره۔ ابن ابي شيبه 6744»