حدیث نمبر: 4847
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْعَدْلُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْعَبْدِيُّ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِي مُرَّةَ مَوْلَى عَقِيلِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، أَنَّهُ سَأَلَ أَبَا هُرَيْرَةَ: كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوتِرُ؟ قَالَ: فَسَكَتَ أَبُو هُرَيْرَةَ، ثُمَّ سَأَلَهُ فَسَكَتَ، ثُمَّ سَأَلَهُ فَسَكَتَ، ثُمَّ سَأَلَهُ، فَقَالَ: إِنْ شِئْتَ أَخْبَرْتُكَ كَيْفَ أَصْنَعُ أَنَا، قَالَ: فَقُلْتُ: فَأَخْبِرْنِي، فَقَالَ: " إِذَا صَلَّيْتُ الْعِشَاءَ صَلَّيْتُ بَعْدَهَا خَمْسَ رَكَعَاتٍ ثُمَّ أَنَامُ، فَإِنْ قُمْتُ مِنَ اللَّيْلِ صَلَّيْتُ مَثْنَى مَثْنَى، فَإِنْ أَصْبَحْتُ أَصْبَحْتُ عَلَى وِتْرٍ ".
حافظ ثناء اللہ

عقیل بن ابی طالب نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہما سے نبی کریم ﷺ کے وتر کے بارے میں سوال کیا تو آپ رضی اللہ عنہ خاموش ہو گئے، پھر انہوں نے سوال کیا تو وہ پھر خاموش ہو گئے، پھر سوال کیا تو آپ رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: اگر آپ چاہتے ہیں تو میں آپ کو خبر دیتا ہوں کہ میں کیسے کیا کرتا تھا۔ عقیل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے کہا: مجھے خبر دو۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں پانچ رکعات پڑھتا، پھر سو جاتا، اگر میں رات کو بیدار ہوتا تو پھر دو دو رکعات پڑھ لیتا اور اگر میں صبح کرتا تو صبح کے وقت وتر پڑھ لیتا۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 4847
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ مالك 250»