السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: من قال: لا ينقض القائم من الليل وتره باب: اس شخص کا بیان جس نے کہا: ”رات کو قیام کرنے والا اپنے وتر کو نہ توڑے گا“۔
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْعَدْلُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْعَبْدِيُّ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِي مُرَّةَ مَوْلَى عَقِيلِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، أَنَّهُ سَأَلَ أَبَا هُرَيْرَةَ: كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوتِرُ؟ قَالَ: فَسَكَتَ أَبُو هُرَيْرَةَ، ثُمَّ سَأَلَهُ فَسَكَتَ، ثُمَّ سَأَلَهُ فَسَكَتَ، ثُمَّ سَأَلَهُ، فَقَالَ: إِنْ شِئْتَ أَخْبَرْتُكَ كَيْفَ أَصْنَعُ أَنَا، قَالَ: فَقُلْتُ: فَأَخْبِرْنِي، فَقَالَ: " إِذَا صَلَّيْتُ الْعِشَاءَ صَلَّيْتُ بَعْدَهَا خَمْسَ رَكَعَاتٍ ثُمَّ أَنَامُ، فَإِنْ قُمْتُ مِنَ اللَّيْلِ صَلَّيْتُ مَثْنَى مَثْنَى، فَإِنْ أَصْبَحْتُ أَصْبَحْتُ عَلَى وِتْرٍ ".عقیل بن ابی طالب کے آزاد کردہ غلام ابو مرہ نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے نبی کریم ﷺ کے وتر کے بارے میں سوال کیا تو آپ رضی اللہ عنہ خاموش ہو گئے، پھر انہوں نے سوال کیا تو وہ پھر خاموش ہو گئے، پھر سوال کیا تو وہ پھر خاموش ہو گئے، پھر سوال کیا تو آپ رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: اگر آپ چاہتے ہیں تو میں آپ کو خبر دیتا ہوں کہ میں خود کیسے کرتا ہوں۔ ابو مرہ کہتے ہیں: میں نے کہا: مجھے خبر دو۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جب میں عشاء کی نماز پڑھ لیتا ہوں تو اس کے بعد پانچ رکعات پڑھتا ہوں، پھر سو جاتا ہوں، اگر میں رات کو بیدار ہوتا ہوں تو دو دو رکعات پڑھ لیتا ہوں اور اگر صبح ہو جائے تو میری صبح وتر پر ہوتی ہے۔