السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: من أوتر بخمس أو ثلاث لا يجلس ولا يسلم إلا في الآخرة منهن باب: جس نے پانچ یا تین وتر پڑھے، وہ ان کے آخر ہی میں بیٹھے اور سلام پھیرے۔
حدیث نمبر: 4805
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: " بِتُّ فِي بَيْتِ خَالَتِي مَيْمُونَةَ، فَصَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعِشَاءَ، ثُمَّ جَاءَ فَصَلَّى أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ، ثُمَّ نَامَ ثُمَّ قَامَ. قَالَ: فَجِئْتُ فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ فَحَوَّلَنِي عَنْ يَمِينِهِ، فَصَلَّى خَمْسَ رَكَعَاتٍ ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ نَامَ حَتَّى سَمِعْتُ غَطِيطَهُ أَوْ قَالَ: خَطِيطَهُ، ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ حَرْبٍ.حافظ ثناء اللہ
سعید بن جبیر رحمہ اللہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے اپنی خالہ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر رات گزاری۔ نبی ﷺ نے عشاء کی نماز پڑھی، اس کے بعد چار رکعات ادا کیں۔ پھر سو گئے، پھر کھڑے ہوئے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں آپ ﷺ کی بائیں جانب کھڑا ہو گیا، آپ ﷺ نے مجھے اپنے دائیں جانب کر لیا اور پانچ رکعات پڑھیں، پھر دو رکعت نماز ادا کی، پھر سو گئے، حتیٰ کہ میں نے آپ ﷺ کے خراٹوں کی آواز سنی، پھر آپ ﷺ نماز کی طرف چلے گئے۔