السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: من أوتر بخمس أو ثلاث لا يجلس ولا يسلم إلا في الآخرة منهن باب: جس نے پانچ یا تین وتر پڑھے، وہ ان کے آخر ہی میں بیٹھے اور سلام پھیرے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْمُرَادِيُّ قَالَا: ثنا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي قَيْسٍ قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: بِكُمْ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوتِرُ؟ قَالَتْ: " كَانَ يُوتِرُ بِأَرْبَعٍ وَثَلَاثٍ، وَسِتٍّ وَثَلَاثٍ، وَثَمَانٍ وَثَلَاثٍ، وَعَشْرٍ وَثَلَاثٍ، وَلَمْ يَكُنْ يُوتِرُ بِأَنْقَصَ مِنْ سَبْعٍ، وَلَا بِأَكْثَرَ مِنْ ثَلَاثِ عَشْرَةَ ". زَادَ أَحْمَدُ: وَلَمْ يَكُنْ يُوتِرُ بِرَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ، قُلْتُ: مَا يُوتِرُ؟ قَالَتْ: " لَمْ يَكُنْ يَدَعْ ذَلِكَ ". ⦗٤٢⦘ وَلَمْ يَذْكُرْ أَحْمَدُ: وَسِتٍّ وَثَلَاثٍ، وَهَذَا يَحْتَمِلُ أَنْ يُرِيدَ بِهِ ثَلَاثًا لَا يَفْصِلُ بَيْنَهُنَّ بِجُلُوسٍ وَلَا تَسْلِيمٍ، فَيَكُونُ فِي مَعْنَى رِوَايَةِ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، وَاللهُ أَعْلَمُ. وَرُوِّينَا عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَى رِوَايَةِ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ فِي الْوِتْرِ بِخَمْسِ رَكَعَاتٍ.عبداللہ بن ابی قیس فرماتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا کہ نبی ﷺ کے وتر کتنے تھے؟ وہ فرماتی ہیں کہ آپ ﷺ چار اور تین، چھ اور تین، آٹھ اور تین، دس اور تین اور سات سے کم وتر نہیں پڑھتے تھے اور نہ تیرہ سے زیادہ اور احمد رحمہ اللہ نے زیادہ کیا ہے کہ آپ ﷺ فجر کی دو رکعات سے وتر نہیں پڑھتے تھے۔ میں نے کہا: آپ ﷺ کے وتر کیسے تھے؟ فرماتی ہیں کہ آپ ﷺ نے اس کو کبھی نہیں چھوڑا۔ احمد رحمہ اللہ نے چھ اور تین کے الفاظ ذکر نہیں کیے۔ ممکن ہے ان کی مراد یہ ہو کہ آپ ﷺ تین وتر پڑھتے تھے، نہ تو درمیان میں بیٹھتے اور نہ سلام پھیرتے تھے۔
(ب) ہشام بن عروہ رحمہ اللہ وتر کی پانچ رکعات کے متعلق فرماتے ہیں۔