السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: من أوتر بخمس أو ثلاث لا يجلس ولا يسلم إلا في الآخرة منهن باب: جس نے پانچ یا تین وتر پڑھے، وہ ان کے آخر ہی میں بیٹھے اور سلام پھیرے۔
وَأَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَجِيدِ بْنُ سُهَيْلٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبَّادٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ الْعَبَّاسَ بْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ بَعَثَهُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَاجَةٍ، وَكَانَتْ لَيْلَةَ مَيْمُونَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ خَالَةِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فَدَخَلَ عَلَيْهَا فَوَجَدَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: " فَاضْطَجَعْتُ فِي حُجْرَتِهِ فَجَعَلْتُ فِي نَفْسِي أَنْ أُحْصِيَ كَمْ يُصَلِّي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَجَاءَ وَأَنَا مُضْطَجِعٌ فِي الْحُجْرَةِ بَعْدَ أَنْ ذَهَبَ ثُلُثُ اللَّيْلِ، ثُمَّ قَالَ: " ارْقُدْ أَوْ بَعْدُ ". قَالَ: ثُمَّ تَنَاوَلَ مِلْحَفَةً عَلَى مَيْمُونَةَ فَارْتَدَى بِبَعْضِهَا وَعَلَيْهَا بَعْضُهَا، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ حَتَّى صَلَّى ثَمَانِ رَكَعَاتٍ، ثُمَّ أَوْتَرَ بِخَمْسٍ لَمْ يَجْلِسْ بَيْنَهُنَّ، ثُمَّ قَعَدَ فَأَثْنَى عَلَى اللهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ فَأَكْثَرَ مِنَ الثَّنَاءِ، ثُمَّ كَانَ آخِرُ كَلَامِهِ أَنْ قَالَ: " اللهُمَّ اجْعَلْ لِي نُورًا فِي قَلْبِي، وَاجْعَلْ لِي نُورًا فِي سَمْعِي، وَاجْعَلْ لِي نُورًا فِي بَصَرِي، وَاجْعَلْ لِي نُورًا عَنْ يَمِينِي، وَنُورًا عَنْ شِمَالِي وَاجْعَلْ لِي نُورًا بَيْنَ يَدِيَّ، وَنُورًا خَلْفِي، وَزِدْنِي نُورًا، وَزِدْنِي نُورًا ".سعید بن جبیر سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ نے ان کو نبی ﷺ کی طرف کسی کام کے لیے بھیجا۔ اس دن سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی خالہ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کی باری تھی۔ وہ ان کے پاس گئے، نبی ﷺ اس وقت مسجد میں تھے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نبی ﷺ کے حجرہ میں لیٹ گیا۔ میں اپنے دل میں کہہ رہا تھا کہ آج میں شمار کروں گا کہ نبی ﷺ کتنی نماز پڑھتے ہیں۔ آپ ﷺ رات کا کچھ حصہ گزر جانے کے بعد آئے، میں آپ ﷺ کے حجرہ میں لیٹا ہوا تھا۔ پھر فرمایا: ”سوجاؤ“، آپ ﷺ نے سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے چادر لی، اس کا بعض حصہ نبی ﷺ کے اوپر تھا اور کچھ حصہ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے اوپر تھا۔ پھر آپ ﷺ نے کھڑے ہو کر دو رکعات پڑھیں۔ پھر آٹھ رکعات ادا کیں۔ پھر آپ ﷺ نے پانچ وتر پڑھے، درمیان میں نہیں بیٹھے۔ پھر آپ ﷺ بیٹھے تو اللہ کی تعریف کی، جس کا وہ اہل تھا۔ آپ ﷺ نے بہت زیادہ ثنا کی اور آخر میں یہ الفاظ فرمائے: «اللَّهُمَّ اجْعَلْ فِي قَلْبِي نُورًا، وَاللَّهُمَّ اجْعَلْ فِي سَمْعِي نُورًا، وَفِي بَصَرِي نُورًا، اللَّهُمَّ اجْعَلْ عَنْ يَمِينِي نُورًا، وَعَنْ شِمَالِي نُورًا، وَأَمَامِي نُورًا، وَخَلْفِي نُورًا، وَأَعْظِمْ لِي نُورًا، وَأَعْظِمْ لِي نُورًا» ”اے اللہ! میرے دل میں نور بنا، اے اللہ! میرے کانوں میں نور بنا دے اور میری آنکھوں میں نور بنا دے، اے اللہ! میرے دائیں، بائیں، آگے اور پیچھے نور بنا دے اور مجھے نور میں زیادہ کر، مجھے نور میں زیادہ کر۔“