السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: الوتر بركعة واحدة ومن أجاز أن يصلي ركعة واحدة تطوعا باب: ایک رکعت وتر پڑھنے اور اس شخص کا بیان جس نے ایک رکعت نفل پڑھنے کی اجازت دی۔
حدیث نمبر: 4784
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى الْخَطِيبُ، أنبأ أَبُو بَحْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ كَوْثَرٍ، ثنا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عَمِّهِ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: قِيلَ لِسَعْدٍ: إِنَّكَ تُوتِرُ بِرَكْعَةٍ، قَالَ: " نَعَمْ، سَبْعٌ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ خَمْسٍ، وَخَمْسٌ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ ثَلَاثٍ، وَثَلَاثٌ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ وَاحِدَةٍ، وَلَكِنْ أُخَفِّفُ عَنْ نَفْسِي ".حافظ ثناء اللہ
مصعب بن سعد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سعد رضی اللہ عنہ سے کہا گیا: کیا آپ ایک رکعت وتر پڑھتے ہیں؟ کہنے لگے: ہاں۔ سات وتر مجھے پانچ سے زیادہ پسند ہیں اور پانچ وتر مجھے تین سے زیادہ پسند ہیں اور تین وتر مجھے ایک سے زیادہ پسند ہیں، لیکن میں اپنے اوپر تخفیف کرتا ہوں۔