السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: الوتر بركعة واحدة ومن أجاز أن يصلي ركعة واحدة تطوعا باب: ایک رکعت وتر پڑھنے اور اس شخص کا بیان جس نے ایک رکعت نفل پڑھنے کی اجازت دی۔
حدیث نمبر: 4783
وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو حَامِدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ بِلَالٍ الْبَزَّازُ، ثنا أَبُو الْأَزْهَرِ، ثنا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا فُلَيْحٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عُثْمَانَ قَالَ: قُلْتُ: " لَأَغْلِبَنَّ عَلَى الْمَقَامِ اللَّيْلَةَ، فَسَبَقْتُ إِلَيْهِ، فَبَيْنَمَا أَنَا قَائِمٌ ⦗٣٧⦘ أُصَلِّي إِذَا رَجُلٌ وَضَعَ يَدَهُ عَلَى ظَهْرِي قَالَ: فَنَظَرْتُ فَإِذَا عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَهُوَ يَوْمَئِذٍ أَمِيرٌ، فَتَنَحَّيْتُ عَنْهُ، فَقَامَ فَافْتَتَحَ الْقُرْآنَ حَتَّى فَرَغَ مِنْهُ، ثُمَّ رَكَعَ وَجَلَسَ وَتَشَهَّدَ وَسَلَّمَ فِي رَكْعَةٍ وَاحِدَةٍ لَمْ يَزِدْ عَلَيْهَا، فَلَمَّا انْصَرَفَ قُلْتُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ إِنَّمَا صَلَّيْتَ رَكْعَةً، قَالَ: " هِيَ وِتْرِي ". وَمِنْهُمْ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبدالرحمن بن عثمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا: آج رات میں مقامِ ابراہیم پر ضرور کھڑا ہوں گا، تو میں سب سے پہلے پہنچ گیا، میں نماز پڑھ رہا تھا تو ایک شخص نے اپنا ہاتھ میری کمر پر رکھا، میں نے دیکھا وہ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ تھے۔ ان دنوں وہ امیر المومنین بھی تھے۔ میں پیچھے ہٹ گیا۔ وہ کھڑے ہوئے، انہوں نے مکمل قرآن پڑھ دیا، پھر رکوع کیا اور بیٹھ گئے، پھر تشہد پڑھ کر ایک رکعت میں سلام پھیر دیا، اس پر زیادہ نہیں کیا۔ جب فارغ ہوئے تو میں نے پوچھا: اے امیر المومنین! ایک رکعت؟ تو وہ کہنے لگے: یہ میرا وتر ہے۔