السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: الوتر بركعة واحدة ومن أجاز أن يصلي ركعة واحدة تطوعا باب: ایک رکعت وتر پڑھنے اور اس شخص کا بیان جس نے ایک رکعت نفل پڑھنے کی اجازت دی۔
حدیث نمبر: 4782
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عُثْمَانَ قَالَ: " قُمْتُ خَلْفَ الْمَقَامِ وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ لَا يَغْلِبَنِي عَلَيْهِ أَحَدٌ تِلْكَ اللَّيْلَةَ، فَإِذَا رَجُلٌ يَغْمِزُنِي فَلَمْ أَلْتَفِتْ، ثُمَّ غَمَزَنِي فَالْتَفَتُّ، فَإِذَا عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَتَنَحَّيْتُ فَتَقَدَّمَ، فَقَرَأَ الْقُرْآنَ فِي رَكْعَةٍ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبدالرحمن بن عثمان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں مقامِ ابراہیم کے پیچھے کھڑا ہوگیا اور میں نے ارادہ کرلیا کہ آج کی رات اس جگہ کسی کو کھڑے نہیں ہونے دوں گا۔ اچانک ایک شخص مجھے کچوکے مارنے لگا، میں نے اس کی طرف مڑ کر بھی نہ دیکھا۔ پھر اس نے مجھے کچوکا مارا تو میں نے مڑ کر دیکھا، وہ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ تھے۔ میں پیچھے ہٹ گیا تو وہ آگے بڑھے اور انہوں نے ایک رکعت میں پورا قرآن پڑھ دیا۔